علم اور بے علمی
الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۲۵
علم اور بے علمی
قرآن کی سورہ نمبر ۳۹ میں ارشاد ہوا ہے ۔ اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے۔ اس کی طرف رجوع ہو کر۔ پھر جب وہ اس کو اپنے پاس سے نعمت دے دیتا ہے تو وہ اس چیز کو بھول جاتا ہے جس کے لیے وہ پہلے پکار رہا تھا۔ اور وہ دوسروں کو خدا کا برابر ٹھہرانے لگتا ہے۔ تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کر دے۔ کہو کہ اپنے کفر سے تھوڑے دن فائدہ اٹھالے۔ بے شک تو آگ والوں میں سے ہے۔ بھلا جو شخص رات کی گھڑیوں میں سجدے اور قیام کی حالت میں عاجزی کر رہا ہو۔ آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو، کہو کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔ نصیحت تو وہی لوگ پکڑتے ہیں جو عقل والے ہیں (الزمر ۹ - ۸)
ہر آدمی پر ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ جن چیزوں کو اپنا سہارا سمجھ رہا تھا۔ وہ بھی اس نازک لمحہ میں اس کے مددگار نہیں بنتے۔ اس وقت آدمی سب کچھ بھول کر خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ اس طرح مصیبت کی گھڑیوں میں ہر آدمی جان لیتا ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر مصیبت دور ہوتے ہی وہ دوبارہ پہلے کی طرح بن جاتا ہے۔ انسان کی مزید کوتاہی یہ ہے کہ وہ اپنی نجات کو خدا کے سوا دوسری چیزوں کی طرف منسوب کرے۔ وہ اس کو اسباب کا کرشمہ بتائے یا فرضی معبودوں کا کرشمہ۔
ایک انسان وہ ہے جس کو صرف مادی غم بے قرار کرے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کو خدا کی یاد بے قرار کر دیتی ہو۔ یہی دوسرا انسان در اصل خدا والا انسان ہے۔ اس کا اقرار خدا حالات کا پیدا وار نہیں ہوتا۔ وہ اس کی شعوری دریافت ہوتا ہے۔ وہ خدا کو ایک ایسی برتر ہستی کی حیثیت سے پاتا ہے کہ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے سب ایک خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ اس کی بیقراریاں رات کے لمحات میں بھی اس کو بستر سے جدا کر دیتی ہیں۔ اس کی تنہائی غفلت کی تنہائی نہیں ہوتی بلکہ خدا کی یاد کی تنہائی بن جاتی ہے۔ علم والا وہ ہے جس کی نفسیات میں خدا کی یاد سے ہلچل پیدا ہوتی ہو۔ اور بے علم والا وہ ہے جس کی نفسیات کو صرف مادی حالات بیدار کریں۔ وہ مادی جھٹکوں سے جاگے اور اس کے بعد دوبارہ غفلت کی نیند سو جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues