اچھے عمل
الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۲۷
اچھے عمل
قرآن کی سرہ نمبر ۴۶ میں ارشاد ہوا ہے ـــــ اور ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرے ۔ اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اس کو پیٹ میں رکھا۔ اور تکلیف کے ساتھ اس کو جنا۔ اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہوا۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا اور چالیس برس کو پہنچ گیا تو وہ کہنے لگا کہ اے میرے رب ، مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو۔ اور میری اولاد میں بھی مجھ کو نیک اولاد دے۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ یہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال کو ہم قبول کریں گے اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے۔ وہ اہل جنت میں سے ہوں گے، سچا و وعدہ جو ان سے کیا جاتا تھا تھا(الا حقاف: ۱۶۔ ۱۵)
انسانی نسل کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ایک ماں اور ایک باپ کے ذریعہ وجود میں آتا ہے جو اس کی پرورش کر کے اس کو بڑا بناتے ہیں۔ یہ گویا انسان کی تربیت کا فطری نظام ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کے اندر حقوق و فرائض کا شعور پیدا ہو۔ اس کے اندر یہ جذبہ پیدا ہو کہ اسے اپنے محسن کا احسان ماننا ہے اور اس کا حق ادا کرنا ہے۔ یہ جذبہ بیک وقت انسان کو دوسرے انسانوں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اسی کے ساتھ خالق و مالک خدا کے عظیم تر حقوق کو ادا کرنے کی تعلیم بھی۔
جو لوگ فطرت کے معلم سے سبق لیں، جو لوگ اپنے شعور کو اس طرح بیدار کریں کہ وہ اپنے والدین سے لے کر اپنے خدا تک، ہر ایک کے حقوق کوپہچا نیں اور ان کو ٹھیک ٹھیک ادا کریں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کی ابدی رحمتوں کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔ ہر آدمی کا گھر اس کی پہلی تربیت گاہ ہے۔ یہ تربیت ماں اور باپ سے شروع ہوتی ہے اور پھر پورے سماج تک پھیل جاتی ہے۔ آدمی اگر اس ابتدائی تربیت گاہ کی تربیت بھر پور طور پر قبول کرلے تو وہ نہ صرف بندوں کے حقوق ادا کرنے کے قابل ہو جائے بلکہ خدا کے وسیع تر حقوق بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues