Al-Risala · June 1997 · page 28

انسانی امتیاز

الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۲۸

انسانی امتیاز

قرآن کی سورہ نمبر۴۹ میں ارشاد ہوا ہے ــــ اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیزگار ہے۔ بے شک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے (الحجرات ۱۳)

انسان بظاہر ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں مگر سب کے سب ایک ہی ابتدائی باپ اور ماں کی اولاد ہیں جن کو آدم اور حوا کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان جیسی ایک مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو سب سے پہلے اس نے ایک ابتدائی جوڑا پیدا کیا، ایک مرد اور ایک عورت۔ اسی ابتدائی جوڑے سے انسانی نسل کا آغاز ہوا۔ جیسے جیسے انسانوں کی تعداد بڑھتی گئی وہ زمین کے مختلف حصوں میں پھیلنے لگے یہاں تک کہ لمبی مدت کے بعد پوری زمین مردوں اور عورتوں سے آباد ہو گئی۔

زمین پر جغرافی حالات ہر جگہ یکساں نہیں ہیں۔ بلکہ ایک حصہ اور دوسرے حصہ میں فرق پایا جاتا ہے، مثلاً کسی حصہ میں سخت گرمی ہے اور کسی حصہ میں سخت سردی۔ کسی حصہ میں خوراک کا زیادہ بڑا ذریعہ گوشت ہے اور کسی حصہ میں خوراک کا زیادہ بڑا ذریعہ زرعی پیداوار، وغیرہ۔ اس جغرافی فرق سے لوگوں کے رنگ اور حلیہ اور قد اور مزاج میں بھی فرق آتا چلا گیا۔ اس طرح کوئی سفید ہو گیا کوئی کالا، کوئی ایک نسل سے ہے اور کوئی دوسری نسل سے، یہ تمام فرق اضافی ہیں نہ کہ حقیقی۔ وہ صرف تعارف کے لیے ہیں نہ کہ امتیاز کے لیے۔ اکثر خرابیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس ظاہری فرق کو حقیقی فرق سمجھنے لگتے ہیں اور اس کی بنا پر ایک دوسرے کے درمیان فرق کرنے لگتے ہیں۔ اس سے وہ تفریق اور تعصب وجود میں آتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسان اپنے آغاز کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں۔ ان میں امتیاز کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کون اللہ سے ڈرنے والا ہے اور کون اللہ سے ڈرنے والا نہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق ان کی حقیقی صفات کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ ان کی ظاہری خصوصیات کی بنیاد پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues

Printed page