Al-Risala · June 1997 · page 33

ہار جیت کا دن

الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۳۳

ہار جیت کا دن

قرآن کی سورہ نمبر ۶۴ میں ارشاد ہوا ہے کہ ؀ (اے لوگو) خدا ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ پھر تم میں سے کوئی ماننے والا ہے۔ اور کوئی نہ ماننے والا، اور خدا دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر پیدا کیا۔ اور اس نے تمہاری صورت بنائی تو نہایت اچھی صورت بنائی اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ اور خدا دلوں تک کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ ۔۔ انکار کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ہرگز دوبارہ اٹھائے نہ جائیں گے۔ کہو کہ ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ پھر تم کو بتایا جائے گا۔ جو کچھ تم نے کیا ہے۔ اور یہ خدا کے لیے بہت آسان ہے۔ پس خدا پر ایمان لاؤ۔ اور اس کے پیغمبر پر اور اس نور پر جس کو ہم نے اتارا ہے۔ وہ خدا جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ جس دن وہ تم سب کو ایک جمع ہونے کے دن جمع کرے گا۔ یہی دن ہار جیت کا دن ہوگا اور جو شخص خدا پر ایمان لایا ہوگا۔ اور اس نے نیک عمل کیا ہوگا۔ خدا اس کے گناہ اس سے دور کر دے گا۔ اور اس کو باغوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی (التغابن ۲-۹) کسی شخص کو دنیا میں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دوچار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی ہار بھی بے قیمت ہے اور جیت بھی۔

ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے۔ اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے ۔ اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی معیار کی بنیاد پر ہوگی۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ در اصل کھونا تھا۔ اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا وہی در اصل وہ چیز تھی جس کو پانا کہا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues

Printed page