Al-Risala · June 1997 · page 34

تخلیقی منصوبہ

الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۳۴

تخلیقی منصوبہ

قرآن کی سورہ نمبر ۶۷ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ (اے لوگو! ) بڑا بابرکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے۔ بخشنے والا ہے۔ جس نے بنائے سات آسمان ۔ اوپر تلے ، تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے۔ پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو۔ کیا تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو۔ نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی اور ہم نے قریب کے آسمانوں کو چراغوں سے سجایا ہے۔ اور ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور ہم نے ان کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا۔ ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے (الملک ۱۔ ۶) جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں بظاہر ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علاحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالتِ امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اس عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کر سکے۔ انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا۔ جنھوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا، جنھوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔

انسان کے سوا کائنات میں جو دوسری چیزیں ہیں ان کے لیے نہ جنت ہے اور نہ جہنم مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان ایک ذمہ دار مخلوق ہے۔ انسان کو استثنائی طور پر حق و باطل کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت دی گئی ہے۔ حال کا یہ فرق مستقبل کے فرق کی ایک علامت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار انسان کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور اس کے بعد امتحان میں کامیاب ہونے والوں کو انعام ملے گا۔ اور جو لوگ ناکام ہوں گے وہ سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues

Printed page