باوزن عمل
الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۴۸
باوزن عمل
قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۱ میں ارشاد ہوا ہے کہ - (اے لوگو) کھڑکھڑانے والی۔ کیا ہے کھڑکھڑانے والی۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی۔ جس دن لوگ پتنگوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے۔ اور پہاڑ دھنے ہوئے رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔ پھر جس شخص کا پلّہ بھاری ہوگا وہ دل پسند آرام میں ہوگا۔ اور جس شخص کا پلّہ ہلکا ہوگا تو اس کا ٹھکانا گڑھا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے۔ بھڑکتی ہوئی آگ (القارعہ ۱-۱۱)
قیامت کا بھو نچال ہر چیز کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا۔ لوگوں کے تمام استحکام ات درہم برہم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد ایک نیا عالم بنے گا۔ جہاں سارا وزن صرف حق میں ہوگا۔ بقیہ تمام چیزیں اپنا وزن کھو دیں گی۔ موجودہ دنیا میں انسانوں کی پسند کا رواج ہے۔ یہاں انسانوں کی نسبت سے چیزوں کا وزن قائم ہوتا ہے۔ آخرت کی دنیا خدا کی دنیا ہے۔ وہاں خدا کی پسند کے اعتبار سے ایک چیز وزن دار ہوگی اور دوسری چیز بالکل بے وزن ہو کر رہ جائے گی۔ دنیا میں اعمال کا وزن ظاہر کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ آخرت میں اعمال کا وزن ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا۔ جس آدمی کے عمل میں جتنا زیادہ اخلاص ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ وزنی قرار پائے گا۔ جو عمل اخلاص سے خالی ہو وہ آخرت میں بالکل بے وزن ہو کر رہ جائے گا۔ خواہ موجودہ دنیا میں ظاہر بینوں کو وہ کتنا ہی زیادہ باوزن دکھائی دے رہا ہو۔ موجودہ دنیا میں وہ عمل وزنی بنتا ہے جس میں دنیوی حالات کی رعایت شامل ہو، جو وقت کے رواج سے مطابقت رکھتا ہو، جو وقت کی سماجی روایات میں قابلِ لحاظ بن گیا ہو، جو لوگ اس طرح کے عمل کا ثبوت دیں وہ دنیا کے ماحول میں عظمت اور وقار کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ آخرت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ وہاں با اصول زندگی باوزن قرار پائے گی۔ وہاں اعلیٰ معیار کے مطابق کیا ہوا عمل قابلِ لحاظ سمجھا جائے گا۔ وہاں وقتی مصلحت کے بجائے ساری اہمیت اس عمل کو حاصل ہو جائے گی جو اپنے اندر ابدی اقدار کی صفت رکھتا تھا۔
دنیا میں باطل بھی باوزن دکھائی دے سکتا ہے۔ لیکن آخرت میں حق کے سوا کسی چیز میں وزن نہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues