مادی دوڑ
الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۴۹
مادی دوڑ
قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۲ میں ارشاد ہوا ہے ۔ (اے لوگو ) زیادہ کی حرص نے تم کو غفلت میں رکھا ، یہاں تک کہ تم مر کر قبروں میں جا پہنچے ، ہر گز نہیں ، تم بہت جلد جان لو گے ۔ پھر ہرگز نہیں ، تم بہت جلد جان لو گے ۔ ہر گز نہیں۔ کاش تم یقین کے ساتھ جانتے ، کہ تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے ۔ پھر تم اس کو یقین کی آنکھ سے دیکھو گے ۔ پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھ ہوگی ( التکاثر ۱ - ۸)
موجودہ دنیا طرح طرح کی مادی چیزوں کا ایک وسیع دستر خوان ہے ، یہ چیزیں دنیا میں امتحان کے لیے رکھی گئی ہیں نہ کہ آزادانہ استفادہ کے لیے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو امتحان کی نظر سے دیکھے تو وہ بقدر ضرورت ان کو حاصل کرے گا اور احتیاط اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ان کو استعمال کرے گا۔
لیکن آدمی عام طور پر ذمہ دارانہ رویہ پر قائم نہیں رہ پاتا۔ مادی چیزوں کی کشش اس کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہے کہ وہ ان ہی کی طرف دوڑ پڑتا ہے مزید یہ کہ اس کی حرص کہیں نہیں رکتی۔ وہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے وہ اپنے پورے وجود کو دنیا کی کمائی میں مشغول کر دیتا ہے۔ وہ اسی حال میں اپنے صبح و شام بسر کرتا ہے یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت آجاتا ہے ، وہ اپنی زندگی بھر کی کمائی کو موجودہ دنیا میں چھوڑ کر آخرت کی دنیا میں چلا جاتا ہے۔ اس وقت اچانک وہ اپنے آپ کو اس حال میں پاتا ہے کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں جو زندگی کے اگلے مرحلے میں اس کے کام آسکے۔ آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔
دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسئولیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues