Al-Risala · July 1997 · page 5

توجیہہ کا فتنہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۵

توجیہہ کا فتنہ

غلطی کی ایک قسم وہ ہے جس کو قرآن میں الم کہا گیا ہے (النجم ۳۲) غلطی کی دوسری قسم وہ ہے جس کے لیے قرآن میں تزیین اعمال کے الفاظ آئے ہیں (الانعام ۱۲۳) پہلی قسم سے مراد وہ غلطی ہے جو بشری کمزوری کی بنا پر اتفاقاً پیش آئے۔ اور دوسری قسم سے مراد وہ غلطی ہے جو خوب صورت توجیہہ اور خوشنما تاویل کے تحت کی گئی ہو ۔

غلطی کرنا برا نہیں ہے۔ اصل غلطی یہ ہے کہ آدمی غلطی کرنے کے بعد اس پر اصرار کرنے لگے (آل عمران ۱۳۵) کوئی آدمی جب بشری تقاضے کے تحت غلطی کرتا ہے تو وہ اس کو اپنے وقار کا مسئلہ نہیں بناتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا آدمی آسانی کے ساتھ اپنی غلطی کو مان لیتا ہے۔ وہ بہت جلد اس کی تلافی کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ وہ پہلی فرصت میں توبہ کر کے اپنی غلطی کی اصلاح کر لیتا ہے۔ لیکن دوسری قسم کے انسان کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ ایسا آدمی غلطی کو غلطی سمجھ کر نہیں کرتا بلکہ اس کے پاس اپنے عمل کے حق میں دلائل کا سرمایہ ہوتا ہے، مثلاً اپنی خود ساختہ لڑائی کو بتانے کے لیے اس کے پاس جہاد فی سبیل اللہ کا نعرہ ہوتا ہے۔ اپنی تخریبی سیاست کے حق میں وہ نفاذ اسلام جیسے خوب صورت الفاظ پائے ہوئے ہوتا ہے۔ حتی کہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر خودکشی کرنے کے لیے بھی اس کو استشهاد (طلب شہادت) جیسی پر فخر تاویل مل جاتی ہے۔ وہ اپنے منفی عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے مثبت تشریحات کا سہارا لیے ہوئے ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس دوسری قسم کے لوگ بہت مشکل سے اس کے لیے تیار ہوتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی کو مانیں۔ حتی کہ ان کے غلط اقدام کے نتیجہ میں پیش آنے والی تباہی بھی انھیں اپنی غلطی کے اعتراف پر مجبور نہیں کرتی۔ ایسے لوگ عین اپنی نفسیات کی بنا پر اعتراف کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ ان کے لیے رائے کی یہ قربانی جان کی قربانی سے بھی زیادہ مشکل ہوتی ہے، کیوں کہ جان کی قربانی آدمی کو ہیرو بناتی ہے اور رائے کی قربانی میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ آدمی لوگوں کے درمیان اچانک زیرو ہو کر رہ جائے گا۔ مقبولیت کھونے کا خوف اکثر حالات میں آدمی کے لیے قبول حق میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page