Al-Risala · July 1997 · page 6

تدبیر خندق

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۶

تدبیر خندق

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں جس واقعہ کو غزوہ خندق کہا جاتا ہے وہ حقیقتاً تدبیر خندق ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ یہ معروف معنوں میں کوئی غزوہ نہ تھا بلکہ وہ غزوہ یا مڈبھیڑ سے بچنے کی ایک کامیاب تدبیر تھی۔

اس موقع پر عرب کے مختلف قبائل بارہ ہزار کی تعداد میں اکٹھا ہو کر مدینہ کی سرحد پر آگئے۔ اس وقت آپ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی نے اپنی معلومات کی روشنی میں بتایا کہ ایران کے بادشاہ جب جنگ سے اعراض کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اور دشمن کے درمیان خندق کھود دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشورہ کو پسند فرمایا اور رات دن کی محنت سے ایک لمبی خندق کھود دی۔ اس طرح فریق مخالف کی پیش قدمی خندق کے دوسری طرف رک گئی اور دونوں فریقوں کے درمیان مڈبھیڑ کی نوبت نہیں آئی۔

اس سے معلوم ہوا کہ غزوہ خندق دراصل ایک دانش مندانہ تدبیر تھی۔ اس کا مقصد اپنے اور فریق مخالف کے درمیان ایک حاجز(buffer) (buffer) قائم کرنا تھا تا کہ ٹکراؤ اور خوں ریزی کے بغیر صورت حال سے نپٹا جا سکے ۔

اس معاملہ میں "خندق" کی حیثیت علامتی ہے۔ حالات کے لحاظ سے اس نوعیت کے دوسرے حاجز بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً فرقہ وارانہ جلوس اگر آپ کے علاقہ میں اگر اشتعال انگیزی کرے تو خود سامنے نہ آکر پولیس کو بلایا جائے اور اپنے اور جلوس کے درمیان پولیس کو حاجز( (بفر) بنا دیا جائے۔ اسی طرح دو فریقوں کے درمیان نزاع پیدا ہونے کے بعد اگر معاملہ کو سلجھانے کے لیے ثالثی بورڈ کو استعمال کیا جائے تو اس بورڈ کی حیثیت بھی گویا کہ ایک بفر کی ہوگی۔

مڈبھیڑ سے بچنا اور اپنے اور مخالف فریق کے درمیان کسی تیسری چیز کو بفر بنانا بھی پیغمبر اسلام کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ یہ سنت تدبیر بھی اتنی ہی اہم اور مقدس ہے جتنی کہ پیغمبر کی دوسری سنتیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page