Al-Risala · July 1997 · page 7

امن اور رزق

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۷

امن اور رزق

قرآن کی سورہ نمبر ۱۶ میں ارشاد ہوا ہے کہ۔ اور اللہ ایک بستی والوں کی مثال بیان کرتا ہے کہ وہ امن واطمینان میں تھے۔ ان کو ان کا رزق فراغت کے ساتھ ہر طرف سے پہنچ رہا تھا۔ پھر انھوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کو بھوک اور خوف کا مزہ چکھایا ان کے اعمال کے سبب سے (النحل ۱۱۲)

دنیا بھر میں فطری طور پر جو نظام قائم کیا گیا ہے اس کے مطابق دو چیزیں آسانی کے ساتھ انسان کو مل جاتی ہیں۔ ایک امن اور دوسرے رزق۔ اگر انسان ان دو چیزوں کے ملنے پر قانع ہو جائے تو وہ نہایت آسانی کے ساتھ آسودہ زندگی کو حاصل کرے گا۔ مگر انسان کی علو پسندی اس کو تیسری چیز کی طرف دوڑاتی ہے اور وہ اقتدار ہے۔ یہی اقتدار کی حرص وہ چیز ہے جو سماجوں میں فساد پیدا کرتی ہے۔

کسی انسانی سماج میں اگر ایسے حالات ہوں کہ لوگوں کو امن حاصل ہو اور رزق کی سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہوں تو گویا کہ انھیں ان کی بنیادی ضرورتیں حاصل ہوگئیں۔ اگر وہ ان دو چیزوں کے ملنے پر راضی ہو جائیں تو وہ اس چیز کو پالیں گے جن کو آسودہ زندگی کہا جاتا ہے۔ ان دو بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے بعد جو لوگ اقتدار کا جھگڑا کھڑا کریں وہ خدا کی نظر میں سرکش ہیں۔ وہ کفران نعمت کے مجرم ہیں۔ یعنی فطرت کے نقشہ پر راضی نہ ہونا اور اپنی خواہش کے مطابق فطرت کا نیا نقشہ بنانے کی کوشش کرنا۔

موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ وہ حق کی معرفت حاصل کرے۔ وہ خدا کا تابعدار بن کر زندگی گزارے۔ وہ اپنے اندر اس ربانی شخصیت کی پرورش کرے جو آخرت میں جنت کی لطیف دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ یہ مواقع جب آدمی کو حاصل ہو جائیں تو اس کے بعد اس کی ساری فکر اس کے استعمال پر مرتکز ہو جانی چاہیے نہ کہ وہ ان کے سوا کسی اور چیز کو اپنا مطلوب بنا کر اس کے پیچھے دوڑنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page