فتح کا راز
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۱
غلطی کا اعتراف
غلطی کرنا انسان کی صفت ہے۔ انسان کی تخلیق اس ڈھنگ پر ہوئی ہے کہ وہ کسی حال میں غلطی سے بچ نہیں سکتا۔ اس دنیا میں فرد سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں اور جماعتوں سے بھی۔ ایسی حالت میں اصل اہمیت کی چیز یہ نہیں ہے کہ کسی انسان نے غلطی کی یا غلطی نہیں کی۔ بلکہ اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ غلطی پیش آنے کے بعد اس کا رویہ کیسا رہا۔
اس اعتبار سے انسانوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ لوگ جو غلطی کرنے کے بعد یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہ کریں، وہ اپنی غلطی کو کسی نہ کسی طرح دوسرے کے اوپر ڈال دیں۔ ایسے لوگ تمام معلوم واقعات کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ حتی کہ وہ ثابت شدہ حقیقتوں کو رد کر دیتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ انہیں اپنی غلطی نہ ماننا ہو۔ وہ تمام دنیا کو غلط قرار دے دیتے ہیں صرف اس لیے کہ انہیں یہ نہ کہنا پڑے کہ "میں نے غلطی کی۔ "
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو انسانیت کے اعلیٰ درجہ پر قائم ہوں۔ جنہوں نے اپنی فطرت کو اس کی اصل حالت پر زندہ رکھا ہو۔ ایسے لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کا تحمّل نہیں کر پاتے کہ وہ غلطی کرنے کے باوجود غلطی کا اعتراف نہ کریں، وہ اپنی غلطی کو کسی دوسرے کے سر پر ڈال کر مطمئن ہو جائیں۔
ایسے کسی انسان سے جب ایک غلطی ہو جاتی ہے تو اس کے اندر شدت سے شرمندگی کا احساس جاگ پڑتا ہے۔ اس کا پورا وجود اس کو ملامت کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنے اندرونی جذبہ کے تحت مجبور ہوتا ہے کہ اس کا ضمیر جس چیز کو غلطی بتا رہا ہے اس کو اپنی زبان سے بھی وہ غلطی ہی بتائے۔ وہ بے اختیارانہ طور پر پکار اٹھتا ہے کہ یہ دراصل میری غلطی تھی نہ کہ کسی اور کی۔ حتیٰ کہ اگر اس غلطی میں جزئی طور پر بظاہر کچھ دوسرے لوگ بھی شریک ہوں تب بھی وہ اس کو اپنی ہی غلطی قرار دیتا ہے کیوں کہ اس کے بغیر وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا نہیں کر سکتا۔ غلطی کو وقار کا مسئلہ بنانا انسانیت کی پستی ہے۔ اور غلطی ہو جانے پر سیدھے طور پر اس کا اعتراف کر لینا انسانیت کی بلندی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues