میں ویجیٹیرین ہوں
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۲
میں ویجیٹیرین ہوں
بیگم شمشاد محمد خاں برمنگھم میں رہتی ہیں۔ ان کے یہاں کچھ مسلم خواتین ملاقات کے لیے آئیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کسی کی غیبت شروع کر دی۔ بیگم شمشاد محمد خاں اس گفتگو میں شریک نہیں ہوئیں جب بات لمبی ہو گئی تو انھوں نے کہا مجھے اس گوشت خوری سے معاف رکھو۔ میں تو ایک ویجیٹیرین ہوں۔ ان کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا جس میں غیبت سے منع کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ : تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے ۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، اس کو تم خود نا گوار سمجھتے ہو (۴۹:۱۲)
مذکورہ خواتین سے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ غیبت کا نقصان سب سے زیادہ خود غیبت کرنے والوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ کیونکہ ان کی نیکیاں ٹرانسفر ہو جاتی ہیں۔ غیبت کرنے والے کی نیکیاں اس کے حساب میں ڈال دی جاتی ہیں جس کی غیبت کی تھی۔ ہمارے سماج میں غیبت کی حیثیت ایک عام برائی کی ہو گئی ہے۔ جب بھی کچھ مرد یا عورت باہم ملیں تو وہ فوراً دوسروں کی برائی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ طریقہ اتنا زیادہ عام ہو گیا ہے کہ اب لوگوں کو شاید اس کے برے ہونے کا احساس بھی نہیں رہا۔
حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ غیبت کیا ہے۔ آپ نے فرمایا ”یہ کہ تم کسی شخص کا ذکر اس طرح کرو کہ وہ سنے تو اسے ناگوار ہو۔ “ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول! اگر میری بات واقعہ کے مطابق ہو۔ آپ نے جواب دیا: اگر تمہاری بات واقعہ کے مطابق نہ ہو تب تو وہ بہتان ہے (موطا امام مالک)
غیبت کرنے والوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ آدمی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرتے ہیں مگر جب وہ سامنے موجود ہو تو وہ اس کو خوش کرنے کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ گویا غیبت اس انسان کا کردار ہے جوڈبل اسٹینڈ رڈہو۔ یہ ایک قسم کی اخلاقی بزدلی ہے۔ آدمی اپنے دل میں ایک شخص کے بارہ میں بری رائے رکھتا ہے مگر اس کے سامنے اس کو ظاہر کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا اس لیے وہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی برائی بیان کر کے اپنے دل کو تسکین دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues