Al-Risala · July 1997 · page 16

حدیث کا مطالعہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۶

فتح الباری بشرح صحیح البخاری (۲۳۹/۵)

اب جہاں تک اہل اسلام سے ہدیہ قبول کرنے کا تعلق ہے، اس میں احادیث میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ لیکن غیر مسلموں کے سلسلہ میں روایات میں اختلاف ہے۔ کچھ روایات بتاتی ہیں کہ کسی غیر مسلم نے ہدیہ پیش کیا تو آپ نے شوق کے ساتھ اس کو قبول فرمایا۔ دوسری طرف ایسی بھی روایتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔ (انی لا أَقْبَلُ ‌هَدِيَّةَ مشرك)، فتح الباری ۲۳۹/۵ سنن ابی داؤد، کتاب الخراج والامارۃ والفئی (باب فی الامام یقبل ہدایا المشرکین) میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم فدک (غیر مسلم حکمران) کا ہدیہ قبول فرمایا۔ پھر عین اسی باب میں دوسری روایت ہے کہ ایک غیر مسلم نے ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا سنن ابی داؤد (۳ / ۷۰-۱۶۹)

یہاں واضح طور پر ایک ہی معاملہ میں دو مختلف مسلک اختیار کیا گیا۔ مگر یہ کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ اس فرق کا سبب نفس حکم کا فرق نہیں ہے بلکہ حالات کا فرق ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ حالات کی رعایت ہمیشہ ایک حکم کے انطباق میں فرق پیدا کر دیتی ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ ۱۔ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار حاکموں اور سرداروں سے ہدیہ قبول فرمایا۔ مثلاً تبوک کی مہم (رجب ۹ھ) میں آپ نے تیس ہزار اصحاب کے ساتھ سفر فرمایا تھا۔ اس مہم کے ذیل میں جو واقعات پیش آئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس علاقہ کے مقام ایلہ کا حاکم یوحنا بن روبہ آپ کی خدمت میں آیا۔ اس نے آپ کو ایک سفید خچر کا ہدیہ پیش کیا جو واضح طور پر اس بات کی علامت تھی کہ وہ آپ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ آپ نے خوشی کے ساتھ اس کا ہدیہ قبول فرمایا۔ اس کے بعد معتدل فضا میں اس سے بات ہوئی۔ اس نے آپ سے صلح کرلی اور جزیہ دینے پر راضی ہوگیا۔ (فتح الباری ۳/ ۴۰۵)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page