حدیث کا مطالعہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۷
یہ واقعہ واضح طور پر تالیف قلب کا واقعہ ہے۔ ایک حاکم جس سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، اگر اس کا ہدیہ قبول نہ کیا جائے تو تلخی پیدا ہوگی اور بہتر تعلق قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اس کا ہدیہ قبول کرنا اور اپنی طرف سے اس کو ہدیہ پیش کرنا قربت اور انس کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے غیر مسلم حاکموں سے ان کا تحفہ قبول فرمایا۔ سرداروں اور حکمرانوں سے ہدیہ قبول کرنے کے متعدد واقعات حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ ایک انسان جو ایک مشن کا علم بردار ہو وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ لوگوں کے ہدیے اور تحفے قبول نہ کرے۔ ہدایا کے لین دین سے مشن کی ترقی کی راہیں کھلتی ہیں اور ہدایا کو لینے سے انکار کرنا مشن کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ اس لئے اسلام میں یہ پسندیدہ بات نہیں کہ ہدایا کے لینے سے انکار کر دیا جائے۔
اب دوسری نوعیت کی مثال لیجئے ۔ سنن ابی داؤد (۳/ ۱۰۷) اور بعض دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مشرک عیاض بن حمار المجاشعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی ۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا : فانی نہیت عن زبد المشرکین (تو مجھے مشرکوں کا عطیہ لینے سے منع کیا گیا ہے) فتح الباری ۵/ ۳۷۲ واقعات بتاتے ہیں کہ یہ انکار حقیقۃ کوئی انکار نہ تھا بلکہ وہ شفقت کا ایک معاملہ تھا۔ اپنی زبان میں ہم اس کو ایک قسم کا ترمیبی انکار کہہ سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ عیاض بن حمار آپ کی تحریک توحید سے متاثر تھے اور ذاتی طور پر آپ کے عقیدت مند بن چکے تھے۔ مگر ابھی تک انھوں نے اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا۔ آپ نے مذکورہ الفاظ میں ہدیہ کا انکار کر کے ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ حسب توقع اس کا مفید اثر ہوا اور جلد ہی انھوں نے باقاعدہ اسلام قبول کر لیا ۔ چنانچہ اب ان کو اسلام کی تاریخ میں عیاض بن حمار المجاشعی رضی اللہ عنہ لکھا جاتا ہے (حیات الصحابہ ۲/ ۲۴۵ )
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues