راجستھان کا سفر
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۵
چالیس سالہ تجربہ میں ملک تباہی کے آخری کنارے پہنچ چکا ہے۔ اب نئی دہلی کی حکومت اپنی نئی اقتصادی پالیسی کے تحت برلائزیشن کا دور لا رہی ہے۔ مگر حالات اتنے زیادہ خراب ہو چکے ہیں کہ بظاہر مزید چالیس سال تک بھی اس کی تلافی ممکن نظر نہیں آتی۔ جہاز میں میرے قریب کی سیٹ پر ادھیڑ عمر کا ایک شخص تھا۔ بظاہر وہ نان ریزیڈینٹ انڈین معلوم ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ غالباً دو بیگ تھے۔ کسی معاملہ پر وہ ایئر ہاسٹس سے بحث کر رہا تھا۔ غالباً ایئر ہاسٹس کا اصرار تھا کہ وہ اپنا سامان لاکر (اوپر کے خانہ) میں رکھے۔ اور وہ انھیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔ آخروہ اس سیٹ سے اٹھ کر کسی دوسری سیٹ پر چلا گیا۔ جاتے ہوئے بڑبڑاہٹ کے انداز میں کہہ رہا تھا ـــــ ہندوستان میں رہنا کتنا مشکل ہے: It is so difficult to live in India. مودی لفٹ کی مذکورہ فلائٹ کا وقت صبح پانچ بج کر ۵۵ منٹ تھا۔ گھڑی کی سوئی نے جیسے ہی ۵۵ ۔ ۵ کا وقت بتایا فوراً جہاز میں حرکت شروع ہوگئی۔ وہ اپنے مقررہ وقت پر اود ے پور پہنچ گیا۔
جہاز میں داخل ہو کر ہم لوگ بیٹھے تو ایئر ہاسٹس نے اعلان کیا : مودی لفٹ کی یہ فلائٹ جے پور ہوتی ہوئی او دے پور جارہی ہے، دہلی سے جے پور کی دوری چالیس منٹ میں پوری کی جائے گی۔
میں نے سوچا کہ میری قریبی منزل جے پور ہے، مگر میری آخری منزل او دے پور ہے تاہم اور آگے بڑھ کر سوچا جائے تو او دے پور بھی میری قریبی منزل ہے، وہ میری آخری منزل نہیں۔ اصل منزل جو اس کے بعد آنے والی ہے وہ موت اور آخرت ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں اس طرح رہ ہو گیا کہ تم راہ چلتے ہوئے ایک مسافر ہو۔
مودی لفٹ کافلائٹ میگزین (Take Off) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون پرواز (Flight) کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ فلائنس کے قریب ۱۴۵۲ میں پیدا ہونے والا لیونار ڈو (Leonardo) پہلا شخص ہے جس نے ہوائی پرواز کے لئے ایک علمی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues