Al-Risala · July 1997 · page 24

راجستھان کا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۴

راجستھان کا سفر

بھارت وکاس پریشد کی دعوت پر راجستھان کا سفر ہوا۔ ۳۱ مارچ ۱۹۹۵ کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ یکم اپریل کی شام کو دوبارہ دہلی واپس آگیا۔ ذیل میں اس سفر کی مختصر روداد درج کی جاتی ہے۔

۳۱ مارچ ۱۹۹۵ کو فجر سے پہلے گھر سے روانگی ہوئی۔ سڑکیں اور راستے بالکل سنسان نظر آئے ۔ کہیں کہیں کوئی کار یا اسکوٹر رینگتا ہوا دکھائی دیا جو اس بات کی علامت تھا کہ یہاں کچھ انسان بھی بستے ہیں۔ میں نے سوچا کہ بڑے بڑے شہروں کی رونق اسی وقت ہے جب کہ وہاں زندہ انسان بھی موجود ہوں ۔ شہر اگر زندہ انسانوں سے خالی ہو جائے تو اپنے تمام مادی اور ظاہری ساز وسامان کے باوجود یہ شہر شہر نہ رہیں بلکہ بھوت نگر دکھائی دیں۔

دہلی سے مودی لفٹ کی فلائٹ ۱۲۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ہندوستان میں اب پرائیویٹ ہوائی کمپنیوں کا دور آ چکا ہے۔ مودی لفت انہی میں سے ایک ہے جو ایک انڈین کمپنی اور جرمن کمپنی کے اشتراک سے قائم ہوئی ہے۔

پرائیویٹ کمپنیوں کی کارکردگی ہر لحاظ سے سرکاری کمپنیوں سے بہتر ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستان کی سیاسی قیادت پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھ میں آئی جو ۱۹۳۷ میں اپنی آٹو بیا گرافی میں لکھ چکے تھے کہ وہ صرف سوشلسٹ نظام (Socialist order) کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ آزادی کے بعد جنوری ۱۹۵۵ میں آوڈی (مدراس) میں کانگریس کا خصوصی اجلاس ہوا۔ اس میں جواہر لال نہرو کی پر جوش تحریک اور تجویز پر سوشلسٹ طرز کا سماج بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ (Socialistic pattern of society)

میں نے اس کے بعد ہی اس کے خلاف ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ سوشلزم (معاشی عمل پر حکومت کا کنٹرول) ایک تباہ کن نظریہ ہے۔ اس وقت شاید میں اکیلا تھا جو اس نظریہ کا اتنا شدید مخالف تھا۔ اب یہ بات ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page