Al-Risala · July 1997 · page 27

This is your copy.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۷

دینا نہیں تھا۔ بلکہ صرف اپنا اشتہار دینا تھا۔ تاکہ وہ ان کے سامانوں کاخریدار بن سکے۔ اپنے انٹرسٹ کے لئے لوگ مفت اخبار تقسیم کر رہے ہیں۔ مگر دوسروں کے انٹرسٹ کے لئے مفت اخبار فراہم کرنے والا کوئی نہیں۔

درمیان میں جہاز چالیس منٹ کے لئے جے پور میں ٹھہرا۔ کچھ مسافر یہاں اترے، اور کچھ نئے مسافر سوار ہوئے۔ وسیع نگاہ سے دیکھا جائے تو زمین بھی اسی قسم کی ایک زیادہ بڑی سواری ہے۔ ہر روز کچھ لوگ اس سے اترتے ہیں اور کچھ نئے افراد اس پر سوار ہوتے ہیں۔ جہاز کے مسافروں کے لئے ہم اترنے اور چڑھنے کا لفظ بولتے ہیں، اور زمین کے مسافروں کے لئے پیدائش اور موت کا لفظ۔

جے پور راجستھان کی ریاستی راجدھانی ہے۔ جے پور ۱۷۲۷ میں آباد کیا گیا تھا تاکہ امبر کی جگہ اس کو راجدھانی بنایا جاسکے۔ یہ ایک منصو بہ بند شہر ہے جس کی سیدھی سڑکوں کے کنارے گلابی رنگ کی عمارتوں کی قطاریں کھڑی ہوئی ہیں۔ دوسری بہت سی تاریخی عمارتوں کے علاوہ یہاں ایک رصد گاہ (جنتر منتر) ہے جو اٹھارویں صدی میں بغداد کی رصد گاہ کے نمونہ پر بنائی گئی تھی۔

جے پور کی ریاست کو بارھویں صدی میں راجپوتوں نے قائم کیا تھا۔ سولھویں صدی میں وہ مغل سلطنت کے ماتحت آگئی۔ ۱۸۱۸ء میں اس پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا۔ ۱۹۴۹ء میں اس کو راجستھان میں ضم کر دیا گیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ سو سال پہلے ریاست جے پور کی سرکاری زبان اردو تھی۔ اور عدلیہ اور انتظامیہ دونوں شعبوں میں اردو ہی میں کام ہوتا تھا۔ (ماہنامہ ہدایت جنوری ۱۹۹۵ء ، صفحہ ۸۹) جے پور میں ایک بڑا مدرسہ (جامعۃ الہدایت) قائم ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے دینی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر اور صنعت و حرفت کو بھی اپنے کورس میں داخل کیا ہے۔ اس کی طرف سے ایک ماہنامہ ہدایت نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ جنوری ۱۹۹۵ء میں ایک مضمون کی چند سطریں یہ تھیں:

(غدر کے بعد) علماء کرام نے انگریزوں سے نفرت کے ساتھ انگریزی سے بھی نفرت کر کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page