This is your copy.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۸
اور انگریزی کی تعلیم کو ناجائز بلکہ حرام قرار دے کر مسلم قوم کے لئے علوم جدیدہ کی تحصیل کے دروازے بند کر دئے۔ اور اس فیصلے سے برطانوی حکومت کے انتقامی اور عیارانہ وشاطرانہ عزائم کے پر لگادئے۔ انگریزوں سے نفرت حق بجانب تھی، لیکن انگریزی جو علوم جدیدہ کے حصول کا ذریعہ تھی اور جس سے سائنس اور ٹکنالوجی کی تعلیم حاصل کرکے مسلم قوم پستی سے ابھر سکتی تھی اور برادران وطن کے شانہ بشانہ چل سکتی تھی، اس کے دروازے مسلم قوم پر خود مسلم علما نے بند کر دئے (صفحہ ۸۹)
میں اضافہ کروں گا کہ انگریزوں سے نفرت کرنے میں بھی ہمارے علماء یقینی طور پر حق بجانب نہ تھے۔ کیوں کہ یہ انگریز ہمارے لئے مدعو کی حیثیت رکھتے تھے۔ اور مدعو سے داعی کا متنفر ہونا ہرگز جائز نہیں۔
جہاز جے پور سے روانہ ہو کر اودے پور پہنچا۔ یہ ایک چھوٹا ایئر پورٹ ہے۔ یہاں صرف چند جہاز اترتے اور روانہ ہوتے ہیں۔
اودے پور راجستھان کا ایک تاریخی شہر ہے۔ ۱۵۶۸ ء میں چیتوڑ کے بعد وہ مہاراجہ اودے پور کی راجدھانی بنا۔ اس کے بعد راجہ نے یہاں دو بڑے محل تعمیر کرائے۔ شاہ جہاں نے ۱۶۲۸ میں مغل تخت پر قبضہ کرنے سے پہلے جب اپنے باپ جہانگیر کے خلاف بغاوت کی تھی تو اس وقت اس نے اودے پور کے ایک محل میں پناہ لی تھی۔ اودے پور کی ریاست سیسودیا راجپوتوں نے آٹھویں صدی عیسوی میں قائم کی تھی۔ ۱۸۱۸ء میں اس پر انگریزوں نے قبضہ کیا۔ ۱۹۴۸ میں اودے پور کو راجستھان میں شامل کر دیا گیا۔
آریہ سماج (۱۸۷۵ء) کے بانی دیانند سرسوتی نے اودے پور ہی میں اپنی مشہور کتاب ستیا تھ پر کاش لکھی تھی اودے پور ایئر پورٹ پر مسٹر رادھے شیام چیپان اور پربھو دیال برملا موجود تھے۔ ان کے ساتھ بذریعہ کار بھیل واڑہ کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں حسب معمول ان لوگوں سے معلوماتی انداز کی گفتگو کرتا رہا۔
مسٹرادھے شیام چیپان ایک صنعت کار ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مرکزی حکومت
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues