This is your copy.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۲
کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چند منٹ کی تاخیر سے پہنچے۔ مگر منتظمین نے کلکٹر صاحب کا انتظار کئے بغیر ٹھیک وقت پر اپنا پروگرام شروع کر دیا۔ ہر پروگرام ٹھیک مقررہ وقت پر شروع ور ختم ہوتا رہا۔ یکم اپریل کو مجھے بھیل واڑہ سے بذریعہ کار چل کر ساڑھے چار بجے اودے پور پہنچنا تھا۔ اودے پور میں دوپہر کا کھانا تھا۔ اور یہاں کا مشہور قلعہ دیکھنا تھا۔ پھر ایئر پورٹ پہنچنا تھا جس کا وقت ساڑھے چار بجے مقرر تھا۔ سارے پروگراموں کو پوراکرنے کے بعد جب ہماری کار ایئر پورٹ پہنچ کر کھڑی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ گھڑی کی ایک سوئی چار پر تھی اور دوسری سوئی ۳۰ پر۔
مسٹر نریندرلودھا ( بھارت و کاس پر یشد کے مقامی صدر ) کا ٹیلیفون دہلی میں آیا تھا کہ ۳۱ مارچ کو جمعہ کا دن ہو گا ۔ اس دن آپ لوگوں کی خاص نماز ہوتی ہے۔ پھر اس کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا۔ میں نے کہا کہ آپ کسی مسلمان سے کہہ دیں کہ وہ مجھ کو مسجد میں لے جائے۔ وہاں میں نماز پڑھ لوں گا۔
چنانچہ جمعہ سے پہلے سرکٹ ہاؤس میں کئی مسلمان آگئے۔ ان کے ساتھ جا کر یہاں کی اسٹیشن والی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ نماز پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ دہلی کی مسجد میں جس طرح میں اپنے آپ کو دوسروں سے مانوس پا تا ہوں ۔ اسی طرح یہاں بھی اور ساری دنیا میں باہمی انسیت کا احساس ہوتا ہے۔
اس تجربہ کے بعد خیال آیا کہ اسلامی اتحاد کی بنیاد دہی روحانی یگانگت ہے۔ آپ دنیا کے جس حصہ میں جائیں ، آپ محسوس کرتے ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کا عقیدہ ، ان کی سوچ ، ان کا اخلاقی اصول ، ان کی عبادت کا طریقہ ، وہی ہے جو میرا ہے۔ یہی اشتراک عالمی اسلامی اتحاد کی بنیاد ہے۔ مگر کچھ انتہا پسند لوگوں نے بے بنیاد طور پر یہ نظریہ بنایا کہ سیاسی ادارہ اسلامی اتحاد کی بنیاد ہے۔ یعنی ساری دنیا کا ایک خلیفہ ہوا اور تمام لوگ اس کے سیاسی عصا کے تحت منظم ہوں۔ یہ ایک بے اصل نظریہ ہے۔ قرآن و سنت میں اس کے لئے کوئی بنیاد موجود نہیں۔
۳۱ مارچ کو دوپہر کا کھانا سرکٹ ہاؤس میں کھایا۔ لمبی میز پر کئی معزز لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues