Al-Risala · July 1997 · page 31

This is your copy.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۱

حکومت کے ذمہ دار اپنے سفروں کے دوران وہاں وقتی قیام کرتے ہیں۔ انہیں کو سرکٹ ہاؤس کہا جاتا ہے۔

بھیل واڑہ نے صرف دس سال کے اندر نمایاں ترقی کی ہے۔ بھیل واڑہ نے بھیونڈی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حالاں کہ بھیونڈی کو مفت بلہ بہت سے ایڈوانٹج حاصل تھے۔ "سوٹنگ" میں وہ سارے ملک سے آگے نکل گیا ہے۔

مسٹر گووند نارائن راٹھی جو خود بھی بزنس میں ہیں، انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ "یہاں کے لوگوں میں رسک لینے کی استعداد (capacity) ہے مزید یہ کہ یہاں کے لوگ دنگے سے بہت دور رہتے ہیں۔ یہاں کوئی جھگڑانہیں ہوتا۔ اور بزنس کے لئے امن بہت ضروری ہے۔ بھیل واڑہ کی آبادی تقریباً دو لاکھ ہے۔ اس میں ۱۰ فیصد سے کچھ زیادہ مسلمان شامل ہیں۔ یہاں دس مسجدیں ہیں اور اتنی ہی تعداد میں دینی مدرسے ہیں۔ دستور ہند نے مسلمانوں کو برابر کے شہری کا درجہ دیا ہے۔ مگر تعلیم اور اقتصادیات میں پیچھے ہو جانے کی وجہ سے عملاً ہر جگہ وہ " دوسرے درجے" کی کمیونٹی نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال کی ذمہ داری تمام تر صرف مسلمانوں کے نا اہل رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔

بھیل واڑہ کا یہ سفر بھارت وکاس پریشد کی دعوت پر ہوا۔ بھارت وکاس پریشد کا قیام ۱۹۸۵ میں ہوا تھا۔ اس کے آل انڈیا پریزیڈینٹ سپریم کورٹ کے سابق جج شری آرایچ کھنا ہیں۔ راجستھان میں اس کی چالیس شاخیں ہیں۔

بھارت وکاس پریشد ایک غیر سیاسی ادارہ ہے۔ یہ لوگ تعمیری کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مثلاً اسکول، اسپتال، رفاہ عامہ، خدمت خلق، وغیرہ۔ انھوں نے سوامی ویویکانند کے اس قول کو اپنا ماٹوبنایا ہے کہ راشٹر نر مان ۔ ویکتی نر مان ۔ یعنی فرد کی تعمیر سے ملک کی تعمیر ہوتی ہے۔ ان کے پروگراموں کے چار اجزاء یہ ہیں : سیوا ، سنسکار، سہیوگ، سمپرک ۔

ایک بات کا میں نے خود تجربہ کیا۔ اور وہ وقت کی پابندی ہے۔ ان کے تمام پروگرام وقت کی پوری پابندی کے ساتھ انجام دئے گئے۔ ۳۱ مارچ کی شام کے پروگرام میں بھیل واڑہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page