Al-Risala · July 1997 · page 34

This is your copy.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۴

میں نے کھانا شروع کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا : بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ میرے قریب بیٹھے ہوئے ایک تعلیم یافتہ ہندو نے اس کا مطلب جاننا چاہا۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے میں شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو نہایت رحیم اور مہربان ہے۔ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ آدمی جب بھی کوئی کام شروع کرے تو وہ ان الفاظ کو اپنی زبان سے دہرائے۔ یہ بندہ کی بندگی کا اظہار اور خدا کی خدا کا اعتراف ہے۔

۳۱ مارچ کو ۳ بجے سہ پہر میں سوچنا کیندر (انفارمیشن سنٹر) میں نوجوانوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ تمہیدی تقریروں کے بعد مجھے موقع دیا گیا۔ میں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو باتیں اگر ہمارے اندر آجائیں تو ملک کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ آج کل یہ حال ہے کہ لوگ دیش سے صرف لینا جانتے ہیں، وہ دیش کو دینا نہیں جانتے۔ یہ مزاج نہ صرف ملک کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ طویل مدت کے اعتبار سے خود افراد کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ ذاتی مفاد کے مقابلہ میں دیش کے مفاد کو اونچا رکھیں ۔ دوسری چیز یہ کہ اس ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہند و مسلم جھگڑا ہے۔ یہ جھگڑا اتمام تر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ ایمرجنسی کے زمانہ میں جب ہندوؤ ں اور مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور وہاں دونوں ایک ساتھ رہے تو ہر ایک نے محسوس کیا کہ ایک دوسرے کے بارہ میں ان کے خدشے بے بنیاد تھے۔ ہندوؤ ں اور مسلمانوں میں اگر کسی طرح صرف اختلاط بڑھ جائے تو تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔

اس میٹنگ کے بعد کافی سوالات آئے جن کا میں نے جواب دیا۔ خاص بات یہ تھی کہ سوالات کے لئے نہایت منظم طریقہ اختیار کیا گیا۔ لوگوں نے کاغذ پر لکھ کر اپنے سوالات صدر صاحب کے پاس بھیج دیجئے۔ یہ سوالات ہندی میں لکھے ہوئے تھے۔ صدر صاحب نے ایک ایک سوال کو باری باری پڑھا اور میں نے ہر ایک کا جواب دیا۔ کسی بھی جواب کے بعد دوبارہ سوال نہیں کیا گیا۔ سوالات اور ان کے جوابات یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔ سوال : آپ دیش میں آنے والے سمے میں کس پر کار کی راج نیتک شاشن ویو ستھا کی سمبھاونا دیکھتے ہیں۔ وشیش کرورتمان سندربھ میں (پرکاش چندر نکل )

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page