Al-Risala · July 1997 · page 35

This is your copy.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۵

جواب : بظاہر حالات امید کی طرف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ۱۹۹۲ء کے آخر میں میں نے بھاجپا کومخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگ کانگریس کے سیکولرزم کو سوڈو سیکولرزم کہتے ہیں۔ اور خود ہندتو کا نام لیتے ہیں۔ مگر سوڈو سیکولرزم کا بدل ہند تو نہیں ہے بلکہ ٹرو سیکولرزم ہے۔ اب آپ دیکھئے خود بھا جپا کے لیڈر (آڈوانی اور باجپئی) ٹھیک اسی قسم کے الفاظ بول رہے ہیں۔ یہ واضح طور پر ایک صحت مند تبدیلی کی علامت ہے۔ سوال : بھارتیہ سنسکرتی ایوم اسلامک سنسکرتی میں کیا فرق ہے۔ دونوں سنسکرتیوں میں ہم کیا سمائیا دیں۔ کیا دونوں سنسکرتیاں راشٹر کو سنگھٹن کرنے ایوم نو زمان میں سہماگی ہو سکتی ہیں (جگیر سنگھ چودھری)

جواب : ہماری موجودہ سنسکرتی ایک نئی سنسکرتی ہے۔ اس کا قدیم بھارتی سنسکرتی سے بہت کم تعلق ہے۔ یہ دراصل ہندستانی تہذیب ، اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے امتزاج سے بنی ہے۔ اور تہذیب یا سنسکرتی ہمیشہ اسی طرح امتزاج ہی سے بنتی ہے۔ یہی مشترکہ تہذیب ہندستان کی تہذیب ہے اور وہی ہماری ترقی کا ذریعہ ہے۔

سوال : شری رام مندر ایوم بابری مسجد کا مدعا مندر ایوم مسجد تک سمیت نہیں رہ کو اب یہ ہندوؤں کی ایوم مسلمانوں پرتی شود کا کارن بن گیا ہے۔ اس کمی کو اب کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔ ایوم اس سمسیا کا کیا سمائک سمادھان ہو سکتا ہے۔ کر پیا پر کاش ڈالیں۔ (دامودر اگروال)

جواب : میں سمجھتا ہوں کہ وقتی طور پر ضرور ایسا ہوا تھا کہ یہ اشو دونوں فرقوں کے لئے پرستیج اشو بن گیا تھا۔ مگر حالات کے زور پر اب وہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اب دونوں فرقوں کو محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ ایک نان اشو تھا جس کو ہم نے جذبات میں آکر اشو بنا لیا۔ سوال : ہندوشبد راشٹروادشبد ہے۔ پھر بھی راشٹر کے سبھی ورگ کے لوگ اس کو جاتی کا دھرم سمجھ رہے ہیں۔ اس کا کیا کارن ہے۔ آپ کا اس سمبندھ میں کیا وچار ہے (ریکھارام چندرانی)

جواب : یہ بات کہ ہندوشبد ایک راشٹر واد شبد ہے، یہ صرف کچھ ہندوؤں کا کہنا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page