حکمتِ قرآن
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۴
حکمتِ قرآن
قرآن ۲۳ سال میں یکا یک نجاً (تدر بیجی طور پر) اترا۔ اس اسلوب نزول کی حکمت بتاتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ولا تعجل بالقرآن من قبل ان يقضى اليك وَحۡيُهُۥۖ وقل رب زدنی علما (طہ ۱۱۴) اور تم قرآن کے لینے میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے اور کہو کہ اے میرے رب، میرا علم زیادہ کر دے۔
مکہ میں قرآن کے ذریعہ جو دعوتی مہم چل رہی تھی، اس میں بار بار لوگوں کی طرف سے نئے نئے سوالات اٹھائے جاتے تھے۔ اور ان مسائل کا حل دریافت کیا جاتا تھا جن کی بابت قرآن میں ابھی کچھ نہیں اترا تھا۔ مثلاً مشرکین کی زیادتیوں کے بارہ میں قرآن میں یہ حکم اترا تھا کہ ان پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ اب ان کا شکار ہونے والے مسلمان یہ کہتے تھے کہ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم ان سے لڑ کر اس کا خاتمہ کریں۔ ایسی حالت میں مخلص اہل ایمان فطری طور پر یہ چاہتے تھے کہ قرآن کا وقفہ نزول کم ہو تا کہ بقیہ معاملات میں بھی جلد از جلد خدا کی رہنمائی مل جائے۔ جزئی احکام والے قرآن کے بجائے مکمل احکام والا قرآن ہمیں حاصل ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن جس ترتیب وتدریج سے اتر رہا ہے وہ اتفاقی نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا طے شدہ منصوبہ ہے۔ قرآن اسی طرح اسی اسلوب میں اترتا رہے گا یہاں تک کہ فطری طور پر وہ اپنی تکمیل تک پہنچ جائے۔
اہل ایمان کو اس سے روکا گیا کہ وہ مستقبل میں اترنے والے قرآن (یا احکام قرآن) کو حال میں اتارنے کے خواہش مندنہ ہوں ۔ اس کے بجائے تمہیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تمہارے فہم قرآن میں اضافہ کر دے۔ قرآن کی اگلی آیتوں کے بارہ میں تعجیل کے بجائے تمہیں اس حکمت کو جاننے کی کوشش کرنا چاہیے کہ قرآنی احکام کے نزول میں تدریج کیوں رکھی گئی ہے ۔
مصلح کے لیے جائز نہیں کہ وہ جلد باز بنے۔ دعوت کے حالات میں لوگوں کو جہاد پر اکسانا، تعمیرِ فکر کے دور میں اجتماعی اقدام کا حکم سنانا، جن مواقع پر صبر و اعراض مطلوب ہے وہاں قتال کی آیتوں کے حوالے دینا، یہ سب اسی کے ذیل میں داخل ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues