انسان کی قسمیں
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۵
انسان کی قسمیں
انسان کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو اپنے آپ کو برائیوں سے بچائے ۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اگر چہ خود تو برائیوں میں ملوث ہوں مگر وہ ان لوگوں کی قدر کریں جو برائی سے دور رہتے ہیں۔ تیسری قسم وہ ہے جب کہ برائی کرنے والا صرف برائی کرے بلکہ وہ اچھے لوگوں کا دشمن بن جائے ۔ ہر شخص کو اپنا احتساب کر کے دیکھنا چاہیے کہ وہ ان تینوں میں سے کس قسم سے تعلق رکھتا ہے۔
خدا نے ہر عورت اور مرد کو آزاد پیدا کیا ہے۔ تاہم یہ آزادی حق کے طور پر نہیں بلکہ آزمائش کے طور پر ہے۔ خدا کے مطلوب بندے صرف وہ ہیں جو اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کریں۔ یہی لوگ ہیں جو موت کے بعد جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اپنے آپ کو کنٹرول میں نہ رکھ سکیں ۔ اور برائیوں میں ملوث ہو جائیں۔ تاہم ان کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ جب وہ کوئی برا کام کریں تو اس پر وہ شرمندگی محسوس کرتے ہوں۔ اسی کے ساتھ وہ اچھے لوگوں کی قدر کریں۔ ان کا سر اچھے لوگوں کے آگے جھک جاتا ہو۔ یہ لوگ بھی اگرچہ برے ہیں لیکن ان کی شرمندگی اور نیک لوگوں کے لیے ان کی قدردانی ، یہ ان کی ایسی صفت ہے جو شاید خدائے رحمن و رحیم کے سامنے ان کی سفارش بن سکے۔
تیسری قسم ان عورتوں اور مردوں کی ہے جن کا حال یہ ہو کہ وہ برائیوں میں اس طرح ملوث ہوں کہ ان کا سینہ بے حسی کا کارخانہ بن جائے ۔ وہ برائی کرتے کرتے اس حد تک بے حس ہو چکے ہوں کہ نیک لوگ ان کے لیے قابلِ نفرت چیز بن جائیں ۔ نیک لوگوں کو بدنام کرنا، ان کو ذلیل کرنا ، ان کی ترقی کو روکنا ، ان کے مفادات کو مجروح کرنا ، یہ ان کا شیوه بن جائے۔
ایسے لوگ خدا کی نظر میں بدترین جانور ہیں۔ خدا انھیں کبھی معاف کرنے والا نہیں ، الا یہ کہ وہ توبہ کریں اور اپنی روش سے باز آئیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues