Al-Risala · August 1997 · page 7

شیطان کا خطرہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۷

شیطان کا خطرہ

قرآن کی سورہ نمبر۷ میں ارشاد ہوا ہے کہ اے بنی آدم، ہم نے تم پر لباس اتارا، جوتمہارے بدن کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور زینت بھی۔ اور تقویٰ کا لباس اس سے بھی بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ تاکہ لوگ غور کریں۔ اے آدم کی اولاد، شیطان تم کو بہکا نہ دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا، اس نے ان کے لباس اتروائے تاکہ ان کو ان کے سامنے بے پردہ کر دے۔ وہ اور اس کے ساتھی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے (الاعراف ۲۶ - ۲۷)

خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ اس کے حسن و وقار کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آدمی کے روحانی وجود کے لیے بھی اسی طرح ایک لباس ضروری ہے۔ یہ لباس تقویٰ ہے۔ تقویٰ آدمی کا معنوی لباس ہے۔ جو اس کو ایک طرف شیطان کے حملوں سے بچاتا ہے۔ اور دوسری طرف اس کے باطن کو سنوار کر اس کو جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے۔ یہ ہے۔ اللہ کا خوف، حق کا اعتراف، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ایک معیار رکھنا، اپنے کو بندہ سمجھنا، تواضع کو اپنا شعار بنانا، دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپنائے تو وہ اپنے اندرونی وجود کو ملبوس کرتا ہے۔ اور وہ اگر اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کر لیتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا بنا ہوا لباس ڈھانکتا ہے۔ اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس۔ آدمی کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو بہکاتا ہے۔ وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سر چشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتا ہے کہ آدمی گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آرہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے تمام نازک مقامات کو جانتا ہے۔ اور انہی نازک مقامات سے وہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ تاہم شیطان صرف ان لوگوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوتا ہے جو اس کے لیے اپنے تمام دروازے کھول دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page