غیر جانب دارانہ سوچ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۶
غیر جانب دارانہ سوچ
، مارچ ۱۹۹۹ کو جناب شمشاد محمد خاں صاحب لندن سے دہلی آئے۔ ملاقات کے وقت انھوں نے بتایا کہ ان کا یہ سفر برٹش ایرویز کے جہاز سے تھا۔ جہاز کے ایک ہندوستانی مسافر نے ان سے کہا کہ یہ انگریز لوگ آج بھی ہم ہندوستانیوں سے امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ دیکھیے، میں نیویارک سے آ رہا ہوں۔ نیویارک سے لندن تک کا سفر میں نے برٹش ایرویز سے کیا تھا، اب لندن سے دہلی کا سفر بھی برٹش ایرویز سے کر رہا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ نیویارک سے لندن کے لیے جو جہاز تھا اس میں سیٹوں کے درمیان جگہ (leg space) زیادہ تھی۔ اور بھی بہتر سہولتیں اس کے اندر موجود تھیں۔ لیکن لندن سے دہلی کے لیے ہم جس جہاز سے سفر کر رہے ہیں اس میں یہ سہولتیں موجود نہیں۔ یہ کتنا بڑا امتیاز (discrimination) ہے۔
شمشاد محمد خاں صاحب نے مذکورہ ہندوستانی مسافر سے کہا کہ بھائی صاحب، یہ امتیازی سلوک کی بات نہیں ہے۔ یہ کمپetition کی بات ہے۔ ٹرانس اٹلانٹک راستہ پر بہت سی کمپنیاں پروازیں کرتی ہیں۔ وہاں نہایت سخت مقابلہ ہے۔ کمپنیاں مسافروں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے مقابلہ میں بہتر سہولت فراہم کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ مگر لندن اور دہلی کے راستہ پر ایسا کمپetition نہیں ۔ اس لیے یہاں کوئی کمپنی اتنا زیادہ توجہ بھی نہیں دیتی۔ یہ فرق برٹش ایرویز ہی میں نہیں خود ایر انڈیا میں بھی موجود ہے جو ہندوستان کی اپنی کمپنی ہے۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر غلط فہمیاں کس طرح جنم لیتی ہیں۔ اس کا سبب بیشتر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ ایک واقعہ کو جس معاملہ سے جوڑنا چاہیے اس کے بجائے اس کو کسی اور معاملہ سے جوڑ لینا۔
واقعات کو صحیح رخ سے دیکھیے۔ کوئی معاملہ سامنے آئے تو اس کو اصل سبب سے جوڑیے ۔ محض ظاہری طور پر رائے قائم کرنے کے بجائے گہرائی میں اتر کر اپنی رائے بنائیے ۔ متاثر ذہن سے سوچنے کے بجائے غیر جانب دارانہ طور پر سوچیے۔ اگر آپ ایسا کریں تو اس کے بعد آپ کو کسی سے نہ شکایت ہوگی اور نہ غلط فہمی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues