Al-Risala · August 1997 · page 10

اقتدار کے باوجود

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۱۰

اقتدار کے باوجود

لارڈ ایکٹن (Lord J.E.E.D. Acton) ۱۸۳۴ میں نیپلس میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۰۲ میں ٹینگرنسی میں ان کی وفات ہوئی۔ جواب ویلٹ جرمنی میں واقع ہے۔ تاریخ اور فلسفہ میں انھوں نے شہرت حاصل کی۔ ان کا ایک قول ہے کہ اقتدار آدمی کو بگاڑتا ہے اور کامل اقتدار بالکل ہی بگاڑ دیتا ہے۔ اس سے زیادہ گمراہی کی کوئی بات نہیں کہ یہ کہا جائے کہ اقتدار کا منصب آدمی کو پاک باز بناتا ہے :

Power tends to corrupt, and absolute power corrupts absolutely. There is no worse heresy than that the office sanctifies the holder of it. لارڈ ایکٹن تاریخ اور نفسیات کے بہت بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں، مگر وہ صرف دنیا دار اور سیکولر لوگوں کی تاریخ سے واقف تھے۔ ان کو اس تاریخ کی خبر نہیں تھی جو ان مقدس ہستیوں نے بنائی ہے جن کو اللہ کی سچی معرفت حاصل ہوئی اور جو آخرت کی فکر میں زندگی گزارنے والے تھے۔ اس معاملہ میں انسانوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک سیکولر انسان، اور دوسرے متقی انسان سیکولر انسان کے لیے حکومتی منصب ایک اعزاز ہوتا ہے۔ اقتدار کا عہدہ پاکر وہ خوش ہوتا ہے کہ اس کو اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا موقع حاصل ہوا۔ یہ چیز اس کے اندر فخر و ناز کی نفسیات پیدا کرتی ہے اور فخر و ناز یا تکبر کی نفسیات ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔

اس کے برعکس متقی انسان کو جب اقتدار ملتا ہے تو وہ اس کو ذمہ داری کا ایک منصب سمجھتا ہے ۔ وہ اس اندیشہ میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ موت کے بعد مجھے اللہ تعالیٰ کے یہاں حساب دینا ہوگا کہ میں نے اقتدار کے منصب کو کس طرح استعمال کیا۔ یہ تصور اس کے اندر تواضع اور جواب دہی کا احساس جگا دیتا ہے ۔ اور جس آدمی کے اندر تواضع اور جواب دہی کی کیفیت پیدا ہو جائے وہ اقتدار کے منصب پر پہنچ کر اور زیادہ محتاط بن جاتا ہے ۔ اسلام کے دور اول کے حکمران اس کی نہایت اعلیٰ مثال ہیں۔ اقتدار کے منصب کو پاکر وہ ذرا بھی نہیں بہکے۔ اس کے برعکس وہ اور زیادہ سنبھل گئے۔ وہ پہلے سے زیادہ پاکباز انسان بن گئے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page