زمانی فرق
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۱۱
زمانی فرق
مکی دور کا ایک واقعہ ہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اسلام قبول کیا تو ایک روز وہ کعبہ میں گئے اور انھوں نے اسلامی طریقہ کے مطابق نماز پڑھنا شروع کیا۔ مکہ کے مشرکین نے ان کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو وہ دوڑ کر آئے اور ان کے اوپر ٹوٹ پڑے۔ انھوں نے ان کو بری طرح مارا پیٹا حتی کہ یہ ممکن نہ رہا کہ وہ وہاں اپنی نماز کو پورا کر سکیں ۔ 19 اکتوبر 1996 کو راقم الحروف کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جس کو یہاں بلا تقابل درج کر رہا ہوں ۔ اس دن بمبئی میں چوپاٹی کے مقام پر ایک بہت بڑا جلسہ تھا۔ اس کو سوادھیائے تحریک والوں نے منظم کیا تھا ۔ چوپاٹی کے میدان میں تقریبا دس لاکھ ہندو حضرات اکٹھا تھے ۔ ایک سرے پر بہت اونچا اور بہت وسیع منچ بنایا گیا تھا جس پر مسٹر ایل کے ایڈوانی اور دوسرے بہت سے بڑے بڑے ہندو لیڈر بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں بھی مقرر کے طور پر وہاں مدعو تھا۔
اس دوران مغرب کا وقت ہو گیا ۔ میں نے منچ کے ایک طرف کھڑے ہو کر سب کے سامنے مغرب کی نماز ادا کی ۔ اس وقت سوادھیائے تحریک کے چیر مین دادا جی پانڈورنگ شاستری کی تقریر ہو رہی تھی ۔ انھوں نے اپنی تقریر روکی اور دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھے پر نام کیا ۔ ان دونوں واقعات میں یہ فرق کیوں ہے ۔ دور اول کے واقعہ میں غیر مسلموں نے ایک مسلمان کو نماز پڑھنے نہیں دیا تھا۔ آج خود غیر مسلموں کے بڑے مجمع میں ایک مسلمان آزادی کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے۔ اس فرق کا سبب زمانے کی تبدیلی ہے ۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر کا نظام قائم تھا ۔ اور موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے ۔ اس بنا پر آج مذہب کے حق میں ایسے امکانات کھل گئے ہیں جو کبھی پائے نہیں جاتے تھے ۔
پہلے تشدد کے ماحول میں مذہب پر عمل کیا جا سکتا تھا۔ آج امن کے ماحول میں مذہب پر عمل کیا جا سکتا ہے ۔ پہلے آزادانہ طور پر مذہبی سرگرمیاں جاری نہیں کی جاسکتی تھیں ، آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کامل آزادی کے ساتھ مذہبی سرگرمیوں کو جاری کیا جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues