الرسالہ انگریزی اب ای میل پر
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۱۳
عمر بن عبدالعزیز کے اس جواب پر ان کے صاحبزادہ عبدالملک نے یہ نں کہا کہ یہ تو اس وقت کی بات ہے جب کہ قرآن اتر رہا تھا۔ اب جب کہ پورا قرآن نازل ہو چکا ہے تو اب بعد کے زمانہ کے لیے یہ ترتیب نہیں ہے۔ اب ہمارے پاس مکمل شریعت ہے، اور اب ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم سیاسی طاقت کو استعمال کر کے پوری شریعت کو مکمل طور پر نافذ کر دیں۔ اب ہم اس کے حصے بخرے نہیں کر سکتے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ترتیب ہی ابدی ہی طور پر اس کے نفاذ کی ترتیب بھی ہے۔ اگلی نسلوں میں ہمیں دوبارہ یہ دیکھنا ہے کہ لوگوں کی ایمانی طاقت کیا ہے۔ لوگوں کی قبولیت کا کیا حال ہے۔ سماجی اور سیاسی حالات کیسے ہیں۔ اور پھر حقیقی صورت حال کا جائزہ لے کر اس کے مطابق تدریجی طور پر شرعی احکام کو نافذ کرنا ہے۔
اسی کا نام اسلامی حکمت ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ نظری اور عملی پہلوؤں میں فرق کیا جائے ۔ اسلام کے عملی احکام کو بالترتیب اتنا ہی نافذ کیا جائے جتنا کہ لوگوں کے اندر قبولیت کا مادہ پایا جا رہا ہے، اور بقیہ اجزاء شریعت کے سلسلے میں ترغیب و تبلیغ کی مہم جاری رکھی جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قوانین کے نفاذ کا معاملہ ۵۰ فی صد حکومت سے تعلق رکھتا ہے، اور بقیہ ۵۰ فی صد زیر نفاذ انسانوں سے۔ کوئی قانون کسی معاشرہ میں اسی وقت نافذ ہوتا ہے جب کہ خود معاشرہ کے اندر اس کے حق میں ایک درجہ کی آمادگی پیدا ہو چکی ہو۔ معاشرہ میں موافق فضا پیدا کیے بغیر اس کے اندر قانون کا نفاذ اتنا ہی ناممکن ہے جتنا کہ زمین تیار کیے بغیر اس سے ہری بھری فصل حاصل کرنا۔
الرسالہ انگریزی اب ای میل پر
الرسالہ انگریزی کے مضامین امریکہ سے ای میل پر دستیاب ہیں۔ جو حضرات اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ای میل پر رابطہ قائم کریں :
arfi@mail.idt.net
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues