Al-Risala · August 1997 · page 12

ترتیب و تدریج

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۱۲

ترتیب و تدریج

صحیح البخاری (کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن) میں حضرت عائشہؓ کی ایک روایت ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسلام میں پہلے جنت و جہنم والی آیتیں اتریں۔ جب لوگوں کے اندر قبولیت کا مادہ پیدا ہو گیا تو اس کے بعد حرام و حلال کے احکام اترے۔ اگر شروع ہی میں یہ حکم اترتا کہ شراب چھوڑ دواور زناچھوڑ دو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم تو کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے ، ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے ( لقانوا لا تدع الخمر ابداً ولا ندع الزنا ابداً) فتح الباری ۶۵۵/۸ احکام کو جاری کرنے کی یہ ترتیب صرف دور اول کے لیے نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ترتیب و تدریج صرف ابتدائی دور کے لیے تھی جب کہ قرآن اتر رہا تھا ، اب جبکہ قرآن پورا اتر چکا تو اب وہ بیک وقت پورا نافذ بھی کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ احکام کے اجرا ء اور نفاذ کا تعلق معاشرہ کی ایمانی اور اخلاقی حالت سے ہے۔ جب بھی لوگوں میں ایمانی اور اخلاقی کمزوری پائی جائے گی تو دوبارہ وہی ترتیب مطلوب ہو جائے گی جو دورِ اول میں مطلوب تھی مورخین اسلام نے خلیفہ عادل حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے بارہ میں لکھا ہے کہ خلیفہ ہو جانے کے باوجود انھوں نے سارے شرعی احکام بیک بار نافذ نہیں کیے۔ ان کے نوجوان صاحبزاد و عبدالملک نے ایک دن کہا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ تمام شرعی احکام کو نافذ نہیں کر رہے ہیں ۔ اب آپ اس قوم کے خلیفہ ہیں، تمام شرعی احکام کو نافذ کر کے آپ موجودہ تمام ظلم و فساد کو ختم کر دیجیے۔ خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا :

لا تَعْجَلْ یا بنی ، فان اللہ ذم الخمر فی اے میرے بیٹے ، جلدی نہ کرو۔ کیوں کہ اللہ نے القرآن مرتین و حرمها فی الثالثة - شراب کی دو بار مذمت کی اور پھر تیسری بار اس کو حرام وانی اخاف ان احمل الحق علی الناس کیا۔ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں حق کو بیک وقت جملۃ فيدعونه جملة ويكون لوگوں کے اوپر لا د دوں تو وہ اس کو بیک وقت من ذافتنة - اتار پھینکیں گے۔ اور پھر ایک نیا فتنہ پیدا ہو جائے گا۔

( المجلة ، ۱۸ - ۲۴ فروری ۱۹۹۶ ، صفحه ۳۵ )

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page