گوہاٹی کا سفر
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۱۶
کی علامتی تصویر بیت انا ہو تو وہ ممتاز محل کا مقبره ( تاج محل) هے: If one building was to sum up an image of India it is the tomb of Mumtaz Mahal. (p. 74)
لوگ تاج محل کو غیر معمولی اہمیت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر تقریبًا ۲۵ سال پہلے جب میں پہلی بار آگرہ گیا اور تاج محل کو دیکھا تو مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوئی ۔ میں اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر قریب کی مسجد میں چلا گیا۔
۲ جنوری کی سہ پہر کو ۳ بجے جہاز گوہاٹی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ یہاں ایئر پورٹ کے لاؤنج میں تھوڑی دیر کے لئے بیٹھنا پڑا۔ یہاں ایک معمر بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ یہ پروفیسر بی کے رائے برمن تھے۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں (641194 .Tel) انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اسلام اور مسلمانوں پر کئی کتابیں انگریزی میں لکھی ہیں۔ ان کی دو کتابوں کے نام ہیں: Prism in Islam Muharram in two cities by B.K. Roy Burman 1779, C.R. Park, New Delhi میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مختصر طور پر بتائیں گے کہ آپ کے مطالعہ کے مطابق اسلام کی اسپرٹ کیا ہے۔ انھوں نے حسب ذیل الفاظ میں اپنا تاثر بیان کیا : Human brotherhood, man's basic nature is in quest of his humane essence, social justice. پروفیسر رائے برمن نے کثرت سے ملک کے مختلف حصوں کا سفر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان مختلف اور متضاد کلچروں کا ملک ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ گوہاٹی سے ۶۰ کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک مندر ہے۔ وہاں سال میں ایک دن با جماعت نماز ہوتی ہے۔ اسی طرح انھوں نے بتایا کہ بھوٹان کی سرحد پر ایک قبیلہ ہے ۔ وہ اپنے دیوتا کو خوش کرنے کے لئے سال میں ایک دن گائے کی قربانی کرتا ہے ۔ اس طرح کی مختلف باتیں انھوں نے بتائیں۔ ایئر پورٹ سے ہوٹل کے لئے روانگی ہوئی ۔ یہ تقریبًا پون گھنٹہ کا راستہ تھا۔ راستہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues