Al-Risala · August 1997 · page 17

گوہاٹی کا سفر

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۱۷

میں سڑک کے دونوں طرف گوہاٹی کے مناظر سامنے سے گزرتے رہے۔ ہر چیز پر پس ماندگی کے آثار دکھائی دئے۔ یہاں کے مکانات، یہاں کی دکانیں، یہاں کے مرد اور عورت، سب کچھ کم (Miniature) سے دکھائی دئے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہر چیز پر پس ماندگی کی اسٹیمپ لگی ہوئی ہے۔ ایک آدمی جب دہلی کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو پرعظمت شہر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ گوہاٹی کو دیکھتا ہے تو گوہاٹی اس کو مقابلہ نمبر ۲ کا شہر معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہ فرق اس کے اندر وہ احساس جگاتا ہے جس کو ”علیحدگی پسندی“ کہا جاتا ہے ۔ ہندوستان کی یہی نامساوی ترقی یہاں کی سیاسی بے چینی کی اصل ذمہ دار ہے۔ اس کے برعکس آپ امریکہ میں جائیں یا یورپ کے کسی ترقی یافتہ ملک کا سفر کریں تو وہاں بڑے شہر اور چھوٹے شہر میں اس قسم کا فرق آپ کو نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ہمارے ملک جیسی علیحدگی کی تحریکیں بھی ابھرنے نہیں پاتیں۔ گوہاٹی میں میرا قیام اشوک گروپ کے ہوٹل برہم پترا کے کمرہ ۳۰۱ میں تھا۔ ہوٹل کے کمرہ میں پشت کی طرف ”شیشہ کی دیوار“ کے باہر سبزہ اور درخت کے مناظر ہیں۔ اس کے بعد جھیل ہے جس کا پانی دور تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے اوپر چڑیوں کے جھنڈ اڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ جھیل کے اس پار سبز پوش پہاڑ کھڑے ہوئے ہیں۔

یہ مناظر بتاتے ہیں کہ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے بھرا ہوا ہے۔ خاص طور پر یہاں پانی کی افراط ہے جس سے زراعت اور باغبانی کو بہت ترقی دی جاسکتی ہے۔ نیز، سستی بجلی بڑی مقدار میں پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ علاقہ پس ماندہ پڑا ہوا ہے۔ ایک ریٹائرڈ افسر نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حکومت نے اس علاقہ کی مدد نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے اس علاقہ کو بے پناہ مالی مدد بھیجی ہے۔ مگر اس مدد کا بڑا حصہ تھوڑے سے سے لوگوں کی جیب میں چلا گیا۔ اس کا بہت کم حصہ ڈیولپمنٹ کے کاموں میں استعمال ہوا۔ ہندوستان میں آپ جس سلسلہ کی تحقیق کریں، آخر میں سب کی جڑ میں یہی کرپشن نظر آئے گا۔ اس صورت حال کی بنا پر اب میرا حال یہ ہے کہ حکومت جب ڈیو لپمنٹ“ کے نام پر کسی بڑی رقم کا اعلان کرتی ہے تو میری روح کانپ اٹھتی ہے کہ عوامی ٹیکسوں پر لوٹ کی ایک نئی مدکھل گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page