گوہاٹی کا سفر
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۱۸
۲ جنوری کی شام کو میں اپنے کمرہ میں تھا کہ داخلی ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے آواز آئی کہ جس بھاگوتي آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد ان سے گفتگو ہوئی۔ وہ بھی سینار میں آئے ہوئے ہیں اور اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ضرور تشریف لائیں۔ چند منٹ کے بعد وہ کمرہ میں آگئے۔ جسٹس پی این بھاگوتي (سابق چیف جسٹس آف انڈیا)، انٹرنیشنل شہرت کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں سے واپسی کے بعد میں ارٹریٹا جا رہا ہوں۔ وہاں کی حکومت نے اپنے دستور کا ڈرافٹ تیار کرنے کے لئے مجھے بلایا ہے۔ وہاں سے واپسی کے بعد میں دہلی میں آپ سے تفصیلی ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ گفتگو کے بعد ۱۵ جنوری کی تاریخ طے ہوئی۔ میں نے تجویز کیا کہ دہلی میں کچھ معروف افراد پر مشتمل ایک حلقہ بنایا جائے۔ اس کی ماہانہ میٹنگ ہوا کرے۔ دوسرے کاموں کے علاوہ اس کا ایک خاص کام یہ ہو، کہ پیش آمدہ اشوز پر وہ تبادلہ خیال کے بعد ایک اسٹیٹمنٹ تیار کرے اور فوری طور پر اس کو اخبارات میں شائع کرایا جائے ۔ انھوں نے اس سے مکمل اتفاق کیا۔ اور کہا کہ میں سفر سے واپسی کے بعد ۱۵ جنوری تک آپ سے ملوں گا اور اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لئے گفتگو کروں گا۔
آج شام کو مغرب کی نماز ہوٹل کے کمرہ میں پڑھی۔ نماز کے بعد ہاتھ اٹھایا تو یہ دعا زبان سے نکلی : اللهم ادخلني مدخل صدق و اخر جنی مخرج صدق و اجعل لی من لدنك سلطانا نصيراً ۲ جنوری کی شام کو ۸ بجے ایک ہال میں تفریحی پروگرام تھا۔ لوگ اس کو دیکھ کر محفوظ ہو رہے تھے۔ میں رنج و غم میں ڈوبا ہوا تھا۔ مجھے قرآن کی آیت (الجمعة ۱۱) یاد آئی۔ میں نے سوچا کہ آج کی دنیا میں آدھے انسان لہو میں مبتلا ہیں۔ اور آدھے انسان تجارت میں۔ ذکر خداوندی میں مشغول ہونے والا انسان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
اس سے واپسی میں مسٹر چترنجن ڈیب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اگر تلا کے رہنے والے ہیں۔ ۱۹۴۶ میں جب گاندھی جی نوآکھلی گئے تھے تو وہ وہاں جا کر گاندھی جی سے ملے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت میری عمر ۱۶ سال تھی۔ میں نے گاندھی جی کو ہاتھ جوڑ کر پر نام کیا تو گاندھی جی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues