Al-Risala · August 1997 · page 22

the only solution is decentralisation of power.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۲۲

اشوک کے ہال میں ہوئے ۔ مقررین نے بہت سی باتیں کہیں ۔ ساری باتیں نقل کرنا ممکن نہیں ہے۔ چند باتیں متفرق طور پر یہاں درج کی جاتی ہیں :

ایک صاحب نے گاندھی جی کا یہ قول دہرایا کہ "سارے مذہب اچھے ہیں، سارے مذہب سچے ہیں، مگر سارے مذہب کچے ہیں۔ " یہ بات کہنے میں بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ مگر وہ غیر منطقی ہے۔ سچائی کو آدمی اس لئے اختیار کرتا ہے تاکہ وہ اعتقادی یقین حاصل کر سکے۔ مگر مذکورہ فارمولا آدمی کو ہمیشہ کے لئے یقین سے محروم کر دیتا ہے۔ ایسا فارمولا تلاش حق کے جذبہ کے مطابق نہیں، اس لئے وہ صحیح بھی نہیں ہو سکتا۔

ایک صاحب نے کہا کہ جو لوگ انگریزی زبان کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں ان کو جاننا چاہئے کہ موجودہ حالات میں وہ ممکن نہیں۔ لوگ انگریزی زبان کی طرف کیوں جاتے ہیں۔ وہ تین باتوں کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ پاور ، ریسپکٹ ، جاب ۔ یہ تینوں باتیں جب تک آپ کی زبان میں پیدا نہ کرسکیں ، انگریزی کی طرف دوڑ بھی ختم ہونے والی نہیں۔ مسٹر دوارکا شرما نے بتایا کہ میزورم میں ایک نوجوان سے انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ نوجوان نے جواب دیا کہ ہم انڈیا سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیوں۔ نوجوان نے جواب دیا کہ وہ ہمارے ساتھ برابر کا سلوک نہیں کرتے : They are not treating us as equal. ایک صاحب نے کہا کہ ان نوجوانوں میں گھومنے کے بعد میں سمجھا ہوں کہ ان کے نزدیک پرامن ذرائع کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وہ ہتھیار کے سوا کوئی اور بات سننے کے لئے تیار نہیں۔ نوجوان مایوس ہیں ، اور یہی اصل مسئلہ ہے : Youths are disillusioned, this is the problem. ۳ جنوری کو دوپہر بعد کے سیشن میں ہیومن رائٹس کے مسئلہ پر غور ہوا۔ یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ اس علاقہ میں عوام کے اندر جو بے چینی ہے اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کے حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں دو قسم کی باتیں سامنے آئیں ۔ میری رائے یہ تھی کہ اصل مسئلہ بے شعوری کا ہے نہ کہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page