Al-Risala · August 1997 · page 23

the only solution is decentralisation of power.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۲۳

۴ جنوری کو تیسرا اجلاس ساڑھے نو بجے صبح شروع ہوا۔ آج بھی حقوق انسانی کا مسئلہ دوبارہ زیر بحث آیا۔ سرکاری افسروں کا خیال تھا کہ گورنمنٹ بہت کام (tremendous work) کر رہی ہے۔ تحفظ حقوق کا قانون (Protection of human rights act) بنایا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن بنایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کا نیشنل رجسٹر بنایا گیا۔ کمیشن کے نام چار ہزار شکایتیں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی وصول ہوئیں، وغیرہ۔

ایک اہم مثال یہ ہے کہ کمیشن نے تجویز کیا کہ ٹاڈا پر نظر ثانی کی جائے۔ اسی طرح جیل کا معائنہ کر کے تجویز کیا کہ قیدیوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے۔ مثلاً جیل میں جگہ کی تنگی وغیرہ (over crowding in jails)۔

میں نے کہا کہ حقوق انسانی کے جو واقعات اخباروں میں چھپتے ہیں وہی مجالس میں زیر بحث آتے ہیں۔ حالانکہ وہ کل ہونے والے واقعات کابمشکل ۵فیصد حصہ ہوتا ہے۔ ۳ جنوری کی شام کو میں پروگرام سے فارغ ہو کر ہوٹل واپس آ رہا تھا۔ گاڑی میں میرے علاوہ دو اور صاحبان تھے۔ دونوں دو الگ الگ یونیورسٹیوں کے پروفیسر تھے۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا : آپ کی یونیورسٹی میں کوئی پرابلم تو نہیں۔ انھوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ جس یونیورسٹی میں پرابلم نہ ہو وہ یونیورسٹی ہی نہیں :

University minus of problems is not a university. یہ حال اب ہمارے ملک میں تعلیمی اداروں کا ہو چکا ہے۔ اب تعلیمی اداروں میں تعلیم سے زیادہ سیاست کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں کے لئے جو آش و استعمال کئے جاتے ہیں انھیں کا نام پرابلم ہے۔ ہماری تعلیم گاہوں کا یہ حال کیوں ہے۔ اس کا سبب بہت پیچھے تک جاتا ہے۔

۱۹۴۷ سے پہلے کے زمانہ میں تعلیم گاہوں میں سیاست داخل کی گئی تاکہ آزادی کی تحریک کے حق میں نوجوانوں کی تائید حاصل کی جاسکے۔ ۱۹۴۷ کے بعد دوبارہ یہ سیاست جاری رکھی گئی کیونکہ نئے حکمرانوں کو الکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے طلبہ کی مدد کی ضرورت تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page