Follow one, and hate none.
الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۳۳
وہ مذہبی ہم آہنگی اور کلچرل ٹالرنس کا مسئلہ ہے۔ اس موضوع پر پہلے سے میں نے کچھ تیار نہیں کیا تھا۔ اسی وقت بیٹھ کر گریزی میں ایک پیپر لکھا اور اس کو وہاں پیش کیا لوگوں نے بہت پسند کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مذہبی اختلافات یا کلچرل اختلاف کے مسئلہ کا حل اختلاف کو ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کو ٹالریٹ کرنا ہے۔ اس نقطہ نظر کی تفصیل کرتے ہوئے آخر میں میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل سوامی ویویکانند نے ایک جملہ میں اس طرح بتایا ہے ایک کی اتباع کرو، اور کسی کے خلاف نفرت نہ کرو :
Follow one, and hate none.
میرا پیپر، دوسرے پیپروں کی طرح ، حاضرین کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ ہر پیپر کی کاپیاں پہلے سے تیار کی جاتی تھیں اور وہ ہال میں لوگوں میں تقسیم کی جاتی تھیں۔
۴ جنوری کی شام کا اجلاس تاخیر کے ساتھ ساڑھے چھ بجے ختم ہوا۔ ہر آدمی جو اسٹیج پر آتا وہ لمبی تقریر کرنے لگتا۔ جب مقرر مدت سے زیادہ وقت ہو گیا تو صدر اجلاس مسٹر پی ایچ تر ویدری (آئی ایس آئی) نے بحث کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے مائک اٹھایا تا کہ وہ صدر کی حیثیت سے اپنے آخری کلمات کہہ سکیں ۔ عین اس وقت حاضرین میں سے ایک خاتون نے بلند آواز سے کہا ”کیا میں ایک منٹ لے سکتی ہوں۔ “ صدر نے جواب دیا کہ نہیں ، اب وہ ایک منٹ کسی کے لئے باقی نہیں رہا :
We have no that one minute.
یہ سن کر مجھے موت کے لمحہ کا خیال آگیا۔ میں نے سوچا کہ آدمی کی عمر کا آخری وقت جب آئے گا اور موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لئے پہنچے گا تو آدمی کہے گا کہ ایک منٹ کی مہلت مجھے اور دے دو۔ فرشتہ جواب دے گا کہ اس ایک منٹ کا وقت گزر چکا۔ اب وہ ایک منٹ کہاں۔
منی پور کے مسٹر نیل کنٹھ شرما نے کہا کہ ہمارے علاقہ کے نوجوان ان کثرت سے ہتھیار اور ڈرگ کی طرف جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ڈرگ سے بچانے کے لئے ان کے والدین اپنے بچوں سے کہتے ہیں کہ تم کو شراب پینا ہو تو پی لو، لیکن ڈرگ کے قریب نہ جاؤ۔ یہ سب اس لیے کہ ان
‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues