Al-Risala · August 1997 · page 32

the only solution is decentralisation of power.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۳۲

تئیں ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔

ایک مجلس میں ایک صاحب پر جوش تقریر کر رہے تھے کہ بنگلہ دیش سے مسلمان برابر سرحد پار کر کے ہمارے یہاں آ رہے ہیں، یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ بنگلہ دیش کو ختم کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے، پھر ہم کیا کر سکتے ہیں۔ مسٹر ٹنچے ہزار یکانے کہا کہ مائیگریشن موجودہ زمانہ کی ایک عام چیز ہے۔ امریکہ بھی اس کو روک نہیں سکتا، پھر ہم کیسے اس پر روک لگا سکتے ہیں۔

پھر انھوں نے کہا کہ نصف ملین ہندوستانی نیپال چلے گئے ہیں۔ وہاں ان کا جانا نیپال کے لئے ایک مسئلہ ہے۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے کہ ان ہندوستانیوں کو وہاں سے واپس لانے کی بات کریں۔ پھر بنگلہ دیش والوں پر اتنا شور کیوں۔ ہم ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں ہو سکتے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس علاقہ میں علیحدگی پسندی کا رجحان پیدا ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ ترقیات کا فائدہ خواص تک رہ جاتا ہے، وہ عوام تک نہیں پہنچتا: The fruit of developments do not perculate to the grassroot level. دوسرے صاحب نے کہا کہ یہی اصل بات نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پنجاب کو ترقیاتی پروگراموں کا اتنا فائدہ پہنچا کہ وہ ملک کی سب سے زیادہ خوش حال ریاست بن گئی۔ وہاں اس معاملہ میں عوام و خواص میں کوئی تفریق نہیں۔ اس کے باوجود پنجاب میں علیحدگی کی خون ریز تحریک شروع ہوئی۔

۴ جنوری کی شام کے اجلاس میں مجھے موقع دیا گیا۔ میں دہلی سے ایک انگریزی پیپر تیار کر کے لے گیا تھا جو ملک میں بڑھتی ہوئی علاقائیت پسندی کے خلاف تھا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ علیحدہ خطہ بنانا کسی کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس معاملہ کو پاکستان اور بنگلہ دیش کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ دونوں ہی مسائل کے حل کے نام پر علیحدہ ملک کے طور پر وجود میں آئے ۔ مگر دونوں میں سے کسی جگہ بھی مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ بلکہ مسائل پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ۔ اس سے ثابت ہو کہ جغرافی تقسیم یا علیحدگی سے مسائل کے حل کا کوئی تعلق نہیں۔ سمینار کے ناظم مسٹر ٹنخورٹھکر نے آخر وقت میں کہا کہ آپ کو ایک اور موضوع پر بھی بولنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page