Al-Risala · August 1997 · page 37

We have no that one minute.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۳۷

ہے۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

گاندھی جی نے اس خط کا جواب اپنے پرچہ ینگ انڈیا میں دیا۔ انھوں نے لکھا کہ نوجوان کو اس طرح کے معاملات میں زیادہ حساس (oversensitive) نہیں ہونا چاہئے ۔ میں نے کہا یہ نہایت صحیح جواب تھا۔ اگر معاملہ حق اور ناحق کا ہو تو آدمی کو ضرور بہت زیادہ حساس ہونا چاہئے۔ مگر جو معاملہ حق اور ناحق سے تعلق نہ رکھتا ہو تو اس میں نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس فرق کے بغیر زندگی کا نظام نہیں چلایا جاسکتا۔

ایک صاحب نے کہا کہ گاندھی جی جب ساؤتھ افریقہ سے آئے تو وہ کوٹ پتلون پہنتے تھے۔ پھر گاندھی جی نے کہا کہ آزادی کی تحریک میں شریک ہونے سے پہلے میں سارے دیش میں گھوم کر لوگوں سے ملوں گا۔ چنانچہ انھوں نے پورے ملک کا دورہ کیا۔ انھوں نے دیکھا کہ ملک میں بے شمار لوگ ابھی تک غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے جسم پر پورا کپڑا بھی نہیں ہے۔ اس کے بعد گاندھی جی نے کہا کہ جس دیش میں غریبوں کی اکثریت ہو وہاں آزادی کی تحریک چلانے کے لئے مجھے خود بھی غریب ہندوستانی کی طرح رہنا ہو گا۔ یہ کہہ کر انھوں نے کوٹ پتلون اتار دیا اور وہ کپڑا پہن لیا جس کو دیکھ کر برطانیہ کے سرونسٹن چرچل نے ان کو ننگا فقیر (naked fakir) کہا تھا ۔ کو ہیما سے ایک انگریزی اخبار نکلتا ہے۔ اس کا نام جرنل (The Journal) ہے۔ اس کے شمارہ ، نومبر ۱۹۹۳ میں ایک جائزہ چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا جبری استحصال کی زمین (A Land of Extortion) اس میں بتایا گیا تھا کہ اس علاقہ کے بیرونی آئی اے ایس افسران بہت غیر مطمئن حالت میں ہیں۔ وہ جلد سے جلد یہاں سے چلے جانا چاہتے ہیں : Non-local IAS officers want to be transferred out of Nagaland as quickly as possible. اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہر وقت ان کو اپنی جان کا خطرہ رہتا ہے۔ غیر مقامی افسروں کو یہاں کے لوگ اسی نظر سے دیکھتے ہیں جس طرح ۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان میں انگریز افسران کو دیکھا جاتا تھا۔ مقامی لیڈروں کی تقریروں نے اس معاملہ میں لوگوں کو اتنا جذباتی بنا دیا ہے کہ غیر مقامی افسروں کو دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ ہم کو غلام بنانے کے لئے یہاں آئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page