Al-Risala · August 1997 · page 38

Symphony of the Seven Sisters.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۳۸

اگرتلہ (ترپورہ) کی شریمتی کرابی دیو برمن نے اپنے پیپر میں نارتھ ایسٹ انڈیا کے بارے پر اظہار خیال کئے۔ ان میں سے بارھواں یہ تھا ۔ سب سے زیادہ اہم یہ کہ اس علاقہ کے لوگوں میں ایسے مشترک رشتہ کی غیر موجودگی کہ وہ اپنے آپ کو انڈین محسوس کریں : Above all absence of a common chord or a binding force to feel 'Indian'. یہ بلاشبہ سب سے زیادہ اہم بات ہے۔ اگر انڈین ہونے کا مشترک احساس موجود ہو تو بقیہ مسائل اپنے آپ غیر اہم بن جاتے ہیں۔ اور اگر یہ مشترک احساس باقی نہ رہے تو اس کے بعد غیر اہم چیز بھی اہم بن جائے گی۔

مقامی انگریزی اخبار ناگالینڈ ٹائِمْس (۲۳ نومبر ۱۹۹۴) میں اس علاقہ کی سات ریاستوں کے بارہ میں ایک رپورٹ چھپی تھی جس کا عنوان تھا:

Symphony of the Seven Sisters.

اس میں بتایا گیا تھا کہ نارتھ ایسٹ کی سات ریاستوں (آسام ، ناگالینڈ ، منی پور ، میگھالیہ ، میزورم ، ارونا چل پردیش ، تری پورہ) میں ہر ایک کا مخصوص کلچر ہے۔ ہر ایک کا مذہب اور زبان الگ الگ ہے۔ ان پر پڑوسی ممالک برما ، چین ، تبت کلچر کے اثرات ہیں ۔ چنانچہ اس علاقہ کی کوئی مشترک زبان نہیں۔ اس کی وجہ سے ”سات بہنوں“ کا باہمی اتحاد بے حد مشکل ہو گیا ہے۔ ناگالینڈ ٹائِمْس کی اس رپورٹ میں مزید بہت کیا تھا کہ در حقیقت انڈیا کا ہند و کلچر ان قبائل کے لئے اجنبی ہے جو کہ بنیادی طور پر گوشت خور ہیں :

Hindu culture is much alien to the psyche of the tribals who are basically non-vegetarians and liberated in their way of life. اس میں بتایا گیا تھا کہ نارتھ ایسٹ کا یہ علاقہ ۱۸۲۶ میں امریکن اور یورپین مشنری کے زیر اثر آیا۔ اور اس پہاڑی علاقہ میں مسیحیت نے اپنی جڑیں قائم کر لیں ۔ یہ ان مسیحی مبلغین کے ذریعہ ہوا جنھوں نے ان پہاڑیوں میں انتھک محنتیں کیں۔ مثال کے طور پر میگھالیہ کے قبائل کی بولی کو لکھنے پڑھنے کی زبان بنانے کا کارنامہ تھامس جونسنہ (Rev. Thomas Jones) وغیرہ نے کیا۔ ان لوگوں نے میگھالیہ کے قبائل کو ان کی پہلی مطبوعہ کتاب دی۔ انھوں نے یہاں اسکول اور اسپتال

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page