Al-Risala · August 1997 · page 39

Symphony of the Seven Sisters.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۳۹

قائم کئے ۔ انھوں نے اس علاقہ کے لوگوں کو پہلی بار علم سے آشنا کیا۔ تاہم ان مسیحی مبلغوں کے اثرات سے منی پور اور ارونا چل بچا رہا۔

۴ جنوری کی شام کو کھانے کی میز پر کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ صاحبان تھے۔ وہ گاندھی واد میں یقین رکھتے تھے۔ ڈاکٹر جینت پاٹل (ممبر پلاننگ کمیشن ) نے کہا کہ ساری سمسیاؤ ں کاحل گاندھی واد میں ہے۔ گاندھی کے وچاروں کو دیش میں لانا ہوگا ، تبھی دیش کا بھلا ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ کے بعد مہا تما گاندھی کے اپنے بنائے ہوئے ساتھی ان سے پھر گئے ۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جو گاندھی ہیرو بنا ہوا تھا ، وہ ۱۹۴۷ کے بعد خود اپنے ملک میں زیر و ہو گیا۔ چنانچہ اس وقت مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ اب میری کون سنے گا۔ ان کے اسی جملہ کو پیارے لال نے اپنی کتاب کا ٹائٹل بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد انڈیا میں خود گاندھی جی اپنے وچاروں کو عمل کی صورت نہ دے سکے۔ پھر اب کون ہوگا جو ان کو عملاً قائم کرے۔ کیا آپ کہیں سے ایک سپر گا ندھی لاسکتے ہیں۔ بمبئی کے پروفیسر رودر نذیر کیلئے کر بھی اس گفتگو میں شریک تھے۔ پھر میں نے کہا کہ وہ مقام جہاں گاندھی واد فیل ہوا ہے وہ لارڈایکٹن کے الفاظ میں انسان کی یہ کمزوری ہے کہ طاقت اور اقتدار آدمی کو بگاڑ دیتا ہے :

Power currupts and absolute power corrupts absolutely. کانگریس کے لیڈروں کے بگڑنے کا اصل سبب یہی تھا۔ اب ہمیں اس انسانی کمزوری کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ہمارے خوابوں کا نیا ہندوستان بننے والا نہیں ۔ ایک مجلس میں یہ بحث تھی کہ سیاسی استحکام کیسے حاصل کریں۔

(how to attain political stability) مختلف لوگوں نے مختلف باتیں کہیں ۔ میں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد کوئی بھی پارٹی اپنے حق میں نئی سیاسی روایات قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ کانگریس بعد از آزادی کار کردگی پر زندہ نہیں تھی بلکہ قبل از آزادی روایات کے سہارے زندہ تھی۔ کانگریس کا سارا سرمایہ جد و جہد آزادی کے دور کی روایات تھیں۔ یہ سرمایہ اب اپنی آخری حد پر پہنچ کر ختم ہو گیا۔

بھاجپا کے پاس کوئی مثبت پیغام نہ تھا۔ اس نے دو بڑے فرقوں کے درمیان چھپی ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page