Al-Risala · August 1997 · page 43

North-East, a rainbow on the ground

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۴۳

اس کا ڈرافٹ بھی رد ہو گیا۔ آخر میں طے ہوا کہ اجلاس کے دوران جو مختلف رائیں سامنے آئی ہیں ، ان کا خلاصہ تیار کیا جائے اور اس کو اشاعت کے لئے دے دیا جائے۔ دو آدمیوں نے اس کا ڈرافٹ تیار کیا۔ مگر وہ بھی منظور نہ ہو سکا۔ آخر کار یہ سیمینار اس طرح ختم ہوا کہ اس کی طرف سے کوئی متفقہ چیز پریس میں اشاعت کے لئے نہ دی جاسکی۔

میں بے حد غم زدہ حالت میں یہ تمام بحثیں سن رہا تھا۔ آخر میں میں نے کہا کہ کسی عجیب بات ہے کہ ایک سنگین قومی مسئلہ پر پورے ملک کے دماغ اکٹھا ہوئے۔ تین دن کے بحث و مباحثہ کے بعد اب وہ یہاں سے واپس جارہے ہیں۔ اور حالت یہ ہے کہ ہم اتنا بھی نہیں کرسکے کہ ایک متفقہ بیان تیار کر کے کل کے اخبار میں دے دیتے تاکہ لوگ کم سے کم یہ جان لیں کہ ہم نے انھیں کیا پیغام دیا ہے۔

۶ جنوری کی شام کو واپسی تھی۔ ہوٹل سے ایئرپورٹ تک کے سفر میں دو صاحبان کا ساتھ تھا۔ پرتاپ سنگھ اور عبدل بھائی۔ ایئر پورٹ پر دیر تک ان لوگوں سے گفت گو ہوئی۔ پرتاپ سنگھ ایک سیاسی آدمی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام لیڈر کرپٹ ہیں ، خواہ ایک پارٹی کے ہوں یا دوسری پارٹی کے۔ میں نے کہا کہ پالی ٹکس میں ہمیشہ کرپشن رہتا ہے۔ البتہ اس کو ایک حد کے اندر رہنا چاہئے۔ ہندوستان کی مصیبت یہ ہے کہ یہاں کا کرپشن حد سے باہر چلا گیا ہے۔

عبدل بھائی مسلمانوں میں نکاح و طلاق کے مسائل سے بہت پریشان تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سلسلہ میں کچھ اصلاحی قانون بننا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں اصل مسئلہ قانون کا نہیں ہے ، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم بہت کم ہے۔ تعلیم یافتہ آدمی ہی جانتا ہے کہ کیسے جینا چاہئے۔ اس لئے اگر آپ اصلاح چاہتے ہیں تو قوم کو تعلیم یافتہ بنائیے ، اس کے بعد تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔

۶ جنوری ۱۹۹۵ء کو گوہاٹی سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ یہ سفر انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ نمبر ۸۹۰ کے ذریعہ طے ہوا۔ گوہاٹی سے واپسی میں جہاز کے نیچے بادلوں کی گہری چادر نہیں تھی۔ ہمارا جہاز بنگلہ دیش کے اوپر سے اڑتے ہوئے ہندوستانی علاقہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page