Al-Risala · August 1997 · page 44

North-East, a rainbow on the ground

الرسالہ، اگست ۱۹۹۷، صفحہ ۴۴

داخل ہوا۔ میں نے جہاز کے نیچے دیکھا تو درختوں سے ڈھکا ہوا بنگلہ دیش ایک جنگل کی تصویر پیش کر رہا تھا۔

مجھے یاد آیا کہ ایک ہندوستانی جرنلسٹ مسٹر چنچل سرکار نے حال میں بنگلہ دیش کا سفر کیا تھا۔ اس کے بعد ان کا ایک تبصرہ دہلی کے انگریزی اخبار پائینیر میں چھپا تھا۔ مسٹر سرکار نے بنگلہ دیش میں مختلف قسم کے لیڈروں سے ملاقات کی۔ کوئی اسلامی سیاست کی بات کرتا تھا اور کوئی سیکولر سیاست کی۔ مگر ہر ایک کا اسلام بھی الگ تھا اور ہر ایک کا سیکولر زم بھی الگ۔ چنانچہ انھوں نے بنگلہ دیش کو ایک سیاسی جنگل (political jungle) سے تعبیر کیا تھا۔ یہ صرف بنگلہ دیش کی بات نہیں۔ اختلافات کی کثرت نے آج پوری مسلم دنیا کو اسی طرح کی صورت حال میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اتحاد کے لئے یہی کافی نہیں ہے کہ قوم کے پاس ایک کتاب اور ایک قرآن ہو۔ اگر لوگوں کا مزاج بگڑا ہوا ہو تو وہ ایک کتاب کی سیکڑوں تعبیر کرکے دوبارہ قوم کو افکار کے ایک جنگل میں بھٹکا دیں گے۔

اس قسم کی صورت حال ہمیشہ نااہل لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ بولنے کے قابل لوگوں کے لئے جتنا بولنا ضروری ہے اتنا ہی ضروری یہ ہے کہ وہ لوگ جو بولنے کے قابل نہیں ہیں وہ نہ بولیں ۔ ۹۹ آدمی چپ رہیں اسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی بولے اور اس کا بولنا لوگوں کے لئے مفید ثابت ہو۔

گوہاٹی سے دہلی تک ڈھائی گھنٹہ کا سفر تھا۔ درمیان میں کچھ اخبارات پڑھے۔ آسام ٹریبیون (گوہاٹی) کے شمارہ ۶ جنوری ۱۹۹۵ کے صفحہ اول پر ریاستی حکومت کے حوالے سے یہ خبر تھی کہ تری پورہ میں قبائلی جنگجوؤں (tribal militants) کے پاس جدید ہتھیاروں (sophisticated arms) کی بھاری مقدار پہنچ گئی ہے۔ وہ انسانوں کے اوپر ان ہتھیاروں کا تجربہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ اخبار کی اسی اشاعت میں کئی خبر یں تھیں کہ اچانک موٹر سائیکل پر کچھ لوگ آئے اور بے قصور لوگوں پر فائر کرکے بھاگ گئے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو علاقہ کی آزادی کے نام پر اپنی متشددانہ تحریک چلا رہے ہیں۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of August 1997 All issues

Printed page