Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

وسیع ایئر پورٹ پر جہاں ہمارا جہاز اترا عین اسی مقام پر سفید رنگ کا ایک اونچا مینار تھا۔ یہ مینار اپنی بلندی کی وجہ سے دور سے دکھائی دیتا ہے۔

حدیث میں ہے کہ مسیح ابن مریم جب نازل ہوں گے تو وہ دجال کا پیچھا کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ لد کے دروازہ پر اس کو پکڑیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے (فیطلبہ حتی یدركه بباب لُدّ فيقتله) صحیح مسلم، سنن ابی داؤد وغیرہ اس مقام کا قدیم نام لُد ہے۔ انگریزی میں اس کو لُڈہ (Lydda) کہتے ہیں۔ حدیث میں جس مقام کا ذکر ہے، ممکن ہے کہ وہ یہی مقام ہو۔ اس کا نام بائبل میں کئی بار آیا ہے۔ اقوام متحدہ نے ۲۹ نومبر، ۱۹۴۷ کو فلسطین کی تقسیم کا جورتزولیوشن پاس کیا تھا اس کے تحت یہ مقام عربوں کو دیا گیا تھا۔ مگر ۱۲ جولائی ۱۹۴۸ کو اسرائیلی فوجوں نے حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت سے وہ اسرائیل کا ایک حصہ ہے۔ لد کا یہ انٹر نیشنل ایئر پورٹ اسرائیل کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے۔ دورِ آخر میں حضرت مسیح کے نزول کے بارہ میں بعض حضرات نے مختلف رائیں پیش کی ہیں۔ مثلاً علامہ اقبال اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں :

آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہیں یا مجدد، جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات ایئر پورٹ سے یروشلم کا سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ سڑک نہایت عمدہ تھی۔ دونوں طرف درخت کی قطاریں کھڑی ہوئی تھیں۔ مگر درختوں پر وہ ہریالی نہ تھی جو ایک ہفتہ پہلے ہریا نہ کے سفر میں سڑک کے دونوں طرف میں نے دیکھی تھی۔ اس کی وجہ یہاں بارش کی کمی ہے۔ موسم کافی گرم تھا۔

راستہ میں سڑک کے دونوں طرف بستیاں دکھائی دیں۔ وہ سب کریم کلر کے پتھروں سے بنائی گئی تھیں۔ یروشلم میں داخل ہوا تو تمام عمارتیں اسی قسم کے پتھروں کی نظر آئیں میرے ساتھی نے بتایا کہ عمارتوں کو پتھر سے بنانے کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ اس کی قدیم وضع کو باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم تمام عمارتیں جدید فن تعمیر کے مطابق بنائی گئی تھیں اور خوب صورت تھیں۔ یروشلم کا عرب سیکٹر جغرافی اعتبار سے یہاں کے سب سے بہتر اور خوب صورت علاقہ میں واقع ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page