Kelaty Trading Company
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
بمبئی اور تل ابیب کے درمیان پرواز کرتے ہوئے ایک انگریزی میگزین ایکشن ایشیا (Action Asia) کا شمارہ اگست ۔ ستمبر ۱۹۹۵ دیکھا۔ یہ میگزین امریکہ سے شائع ہوتا ہے۔ یہ دو ماہی میگزین ہر اعتبار سے نہایت عمدہ تھا۔ امریکہ موجودہ زمانہ میں غیر امریکی ملکوں کا بھی چیمپین بنا ہوا ہے۔ اس میں ایک مضمون کامیاب لوگوں (Achievers) کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نیپال کے کچھ دریاؤں میں پانی نہایت طغیانی کے ساتھ بہتا ہے۔ ان میں کشتی چلانا بہت جوکھم کا کام ہے۔ معذور لوگوں کی ایک ٹیم نے طے کیا کہ وہ ان دریاؤں میں عین طغیانی کے زمانہ میں کشتی چلائیں۔ انھوں نے سوچا کہ ہم جسم کے اعتبار سے معذور ہیں مگر ہمارا دماغ معذور نہیں: We are disabled only in body, not in mind. نومبر ۱۹۹۴ میں چھ معذور افراد نے ہر قسم کے ضروری سامان سے لیس ہو کر اپنی کشتی دریا میں ڈال دی۔ انھوں نے ہمت سے کام لے کر کامیابی حاصل کی اور یہ ثابت کیا کہ اعلیٰ کارکردگی کے لیے واحد رکاوٹ صرف وہ ہے جو آدمی خود اپنے اوپر ڈال لے:
A group of disabled adventurers took on the wild white water of Nepal. A group of disabled adventurers took on the wild white water of Nepal, and proved the only limits to performance are those we impose on ourselves. بمبئی کے تجربہ کی بنا پر مجھے اندیشہ تھا کہ شاید اسرائیلی ایرپورٹ پر پہنچ کر وہاں بھی اسی قسم کا سخت تر معاملہ پیش آئے۔ تاہم یہ سوچ کر مطمئن تھا کہ وہاں ایرپورٹ پر کانفرنس کے منتظمین موجود ہوں گے اور وہ میرے لیے کافی ہو جائیں گے۔ مگر جہاز سے باہر آنے کے بعد وہاں کوئی دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ میں دوسرے مسافروں کے ساتھ لائن میں لگ گیا۔ یہاں بھی اتفاق سے کھڑکی کے پیچھے ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی۔ مگر اس نے چند معمولی سوال پوچھ کر فوراً ہی میرے پاسپورٹ پر اسٹیمپ ڈال دی اور مجھے رخصت کر دیا۔
باہر آیا تو ڈاکٹر لیونار ڈومل گئے جو میری رہنمائی کے لیے یہاں آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ کچھ دیر کے لیے وی آئی پی لاؤنج میں بیٹھا۔ پھر بذریعہ کار یروشلم کے لیے روانگی ہوئی۔ یروشلم مایا سے اپنے ساتھ لے گیا ہے، اس کے علاوہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جس اسرائیلی رابرٹ سرماز جہاز اترا ہیلی کا پٹر ہے، اور یہاں کے تمام پتے معلوم کئے گئے ہیں۔ ان میں اسرائیل کی جانب سے یہاں سے تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ جس اسرائیلی ایر پورٹ پر ہمارا جہاز اترا اس کا نام بن گوریان انٹرنیشنل ایر پورٹ ہے وہ لُد (Lod) کے علاقہ میں واقع ہے۔ لُد کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues