Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

ہے۔ موجودہ ہوٹل کی نوعیت بھی یہی ہے۔ اس ہوٹل کے ایک طرف جدید یروشلم کی عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری طرف قدیم یروشلم ہے جس میں عرب سیکٹر واقع ہے۔ ظہر کا وقت ہوا تو مختلف مسجدوں سے اذان کی آوازیں آنے لگیں۔ معلوم ہوا کہ ہندوستان کے شہروں کی طرح یہاں بھی عرب علاقہ کی مسجد وں میں اور خود بیت المقدس میں لاؤڈ اسپیکر لگے ہوئے ہیں اور پانچوں وقت ان سے اذان کی آوازیں فضا میں بلند ہوتی ہیں۔ مجھے تعجب انگیز خوشی ہوئی کہ پچاس سالہ یہود و عرب کے خونیں نزاعات کے باوجود آج بھی یہاں یہ مواقع موجود ہیں کہ مسلمان لاؤڈ اسپیکر پر پانچوں وقت اذان بلند کریں اور مسجدوں میں جمع ہو کر باقاعدہ نماز ادا کریں۔ فلسطین تین بڑے مذہب کا مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہود کا اس لیے کہ ان کے خیال کے مطابق وہ براہِ راست خدا کی طرف سے انھیں دیا گیا ہے۔ وہ ان کے لیے ارض موعود ہے (Promised Land) جس کا فیصلہ براہِ راست خدا کی طرف سے کیا گیا۔ عیسائیوں کا اس لیے کہ حضرت مسیح یہاں پیدا ہوئے اور اسی سر زمین میں انھوں نے اپنے مشن کی تکمیل کی۔ مسلمانوں کا اس لیے کہ پیغمبر اسلام معراج کے سفر میں یہاں آئے اور ہجرت کے بعد ایک سال سے زیادہ مدت تک بیت المقدس کو اپنی عبادت کا قبلہ بنایا۔

فلسطین کا اہم ترین شہر یروشلم ہے۔ اسی کے علاقہ میں تینوں مذاہب کے مقدس مقامات واقع ہیں۔ اس کی تاریخ چودہویں صدی قبل مسیح تک جاتی ہے جب کہ اس علاقہ پر مصریوں کی حکومت تھی۔ اس کے بعد بار بار اس علاقہ کی حکومت بدلتی رہی۔ اس زمانہ کی تقریباً تمام قو میں ایک کے بعد ایک اس پر حکومت کرتی رہیں یہاں تک کہ ایک ہزار قبل مسیح میں حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت فلسطین وشام کے علاقہ میں قائم ہوئی۔ جو مزید اضافہ کے ساتھ ان کے صاحب زادہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ تک جاری رہی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے یروشلم کی توسیع کی اور قدیم یہودی عبادت خانہ (ہیکل) تعمیر کیا۔ جس کا اب صرف ایک حصہ دیوار گریہ (مغربی دیوار) کی صورت میں موجود ہے۔ حضرت سلیمان کے بعد مختلف حکمران یروشلم کو اور معبد کو تباہ کرتے رہے یہاں تک کہ سلیمانی ہیکل ایک کھنڈر کی صورت میں باقی رہ گیا۔

۶۳۸ میں جب کہ اس علاقہ میں رومیوں کی حکومت تھی، عربوں نے رومیوں کو شکست

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page