Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

دے کر فلسطین پر اپنا قبضہ قائم کیا ۔ خلیفہ دوم عمر فاروق فاتحانہ طور پر مدینہ سے یروشلم پہنچے۔ ان کے اس سفر کی یادگار مسجد عمر کی شکل میں آج بھی یروشلم میں کنیسۂ قیامہ کے پاس موجود ہے۔ بنوامیہ کی سلطنت کے زمانہ میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مقدس صخرہ کے اوپر ایک گنبد تعمیر کیا جو بیت المقدس (قبة الصخرة) کے نام سے مشہور ہے۔

خلیفہ عمر فاروق نے اہل فلسطین کے ساتھ نہایت رواداری کا معاملہ فرمایا۔ بحیثیت فاتح وہاں انھوں نے جو تقریر کی تھی اس میں یہ اعلان کیا کہ اے اہل فلسطین تم کو بھی وہی تمام حقوق حاصل ہوں گے جو اسلامی قانون کے تحت مسلمانوں کو حاصل ہیں (یا اہل ایلیاء لكم مالنا وعلیکم ما علینا)

مسلم سلطنتوں کے زمانہ میں خلافت راشدہ کے بعد بھی رواداری کی یہی پالیسی جاری رہی۔ مورخین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ بنو امیہ اور بنو عباس دونوں نے یہودی اور عیسائی باشندوں کے حق میں فراخدلی کی پالیسی اختیار کی :

عباسی سلطنت کے بعد یہ پالیسی پوری طرح باقی نہ رہ سکی۔ کہا جاتا ہے کہ مصر کے فاطمی خلیفہ نے ۱۵۱۵ میں عیسائیوں کے مقدس مقامات کو توڑنے کی دھمکی دی۔

عیسائی اپنی سابق روایت کے مطابق مختلف مقامات سے جوق در جوق اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آتے تھے۔ اس سلسلہ میں مقامی طور پر غالباً کچھ ناخوش گوار واقعات ہوئے۔ سلجوقی سلطنت کے زمانہ میں ۱۰۷۱ میں عیسائی زائرین کے راستے بند کر دیے گئے۔ اس سے عیسائیوں کا مذہبی طبقہ بہت زیادہ برانگیختہ ہو گیا۔ اس نے یورپ کے مسیحی حکمرانوں کو غیرت دلائی۔ اس کے نتیجہ میں قدس پر مسیحی قبضہ بحال کرنے کے لیے وہ طویل جنگ شروع ہوئی جو کروسیڈس کے نام سے مشہور ہے۔

ان صلیبی جنگوں کے نتیجہ میں مسیحی حکمراں عارضی طور پر یروشلم پر قابض ہو گئے ۔ ان کا یہ قبضہ ۱۰۹۹ سے ۱۱۸۷ تک باقی رہا ۔ اس کے بعد صلاح الدین ایوبی نے ایک فیصلہ کن جنگ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page