Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

بھی تھے ۔ یہود کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کی قربانی بھی اسی صخرہ پر کی تھی ۔ ان کے نزدیک یہ حضرت اسحاق تھے۔ کیوں کہ وہ لوگ حضرت اسحاق علیہ السلام ہی کو ذبیح مانتے ہیں (البدایہ والنھایہ ۵۵/۲)

کویت کے میگزین المجتمع (یکم اگست ۱۹۹۵) میں سعودیہ کے سعود محمد الزعبی نے لکھا تھا کہ ۸۰ فیصد مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ قبة الصخرة ہی المسجد الاقصیٰ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ غالباً ۹۹ في صد لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اور یہ غلط فہمی بہت پہلے سے چلی آرہی ہے۔

ابن ہشام نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصٰی لے جایا گیا اور وہ بیت المقدس ہے (ثم اسریٰ برسول الله صلى الله عليه و سلم من المسجد الحرام الى المسجد الاقصی وهو بيت المقدس) سيرة ابن ہشام ۲/۲ ابن کثیر نے اپنی تفسیر قرآن میں لکھا ہے کہ : الی المسجد الاقصی وهو بيت المقدس (تفسیر ابن کثیر ۲/۳) یہی بات قرطبی نے بھی لکھی ہے کہ : (اسری به من المسجد الحرام الى المسجد الاقصی وهو بيت المقدس) (۲۱۰/۱۰)

اسی طرح مولاناشبیر احمد عثمانی نے اپنی تفسیر قرآن میں لکھا ہے کہ۔ یعنی جس ملک میں مسجد اقصی (بیت المقدس) واقع ہے۔ (صفحه ۳۶۵) مولانا ابوالاعلی مودودی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے : مسجد حرام یعنی بیت اللہ سے مسجد اقصی یعنی بیت المقدس تک (تفہیم القرآن ۵۸۸/۲) مسجد اقصی کا مسئلہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے نزدیک ان کا سب سے زیادہ بڑا مسئلہ ہے اس کے بارے میں ساری دنیا کے مسلم پریس میں مسلسل مضامین اور رپورٹوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کی اصل نوعیت کے بارے میں لوگوں کی معلومات بے حد کم ہیں۔ ہر ایک بس جذباتی انداز کی تحریریں شائع کر رہا ہے ۔ مثلاً مسجد اقصی کی بازیابی پر ایک مضمون چھپے گا اور اس کے ساتھ جو تصویر شامل کی جائے گی وہ بیت المقدس کی ہوگی۔ حالاں کہ دونوں واضح طور پر دو الگ الگ عمارتیں ہیں اور دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے۔ مثلاً بمبئی کے ایک ماہنامہ میں اس مسئلہ پر ایک نہایت جذباتی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page