Kelaty Trading Company
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
تو قریش نے اس پر یقین یں کیا۔ اس وقت مکہ میں کچھ ایسے افراد تھے جنھوں نے یروشلم کا سفر کیا تھا اور مسجد کو دیکھا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کیا آپ مسجد کا نقشہ بتا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے نقشہ بتانا شروع کیا تو اس کی بعض چیزوں کے بارے میں آپ مشتبہ ہو گئے ۔ اسی وقت مسجد لا کر آپ کے سامنے رکھ دی گئی۔ اور آپ نے دیکھ کر اس کا پورا نقشہ بیان کر دیا۔ قریش نے کہا کہ جہاں تک بیان کرنے کا تعلق ہے انھوں نے ٹھیک بیان کیا (اما النعت فقد (صاحب) فتح الباری ۲۴۴/۸ بخاری کی روایت کے مطابق ، ۶۲۲ء میں وہاں باقاعدہ ”مسجد “ کی عمارت ہونا چاہیے۔ مگر موجودہ تاریخی شہادتوں سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ اس قابل ہے کہ از سر نو اس کی تحقیق کی جائے۔
ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اہل کتاب کی روایت کے مطابق ، حضرت یعقوب علیہ السلام جن کو یہودی اسرائیل کہتے ہیں ، انھوں نے مسجد اقصیٰ کی بنا ڈالی ، یہ فلسطین (ایلیا) کی مسجد ہے جس کو بیت المقدس کہا جاتا ہے (البدایہ والنہایہ ۱۶۲/۱)
اصل یہ ہے کہ حضرت یعقوب نے جس مقام پر یہودی معبد کی بنیاد رکھی تھی ، اسی مقام پر بعد کو ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی گئی ۔ اس ہیکل کو ایک سے زیادہ بار تباہ کر دیا گیا۔ معراج کے وقت یہاں زیادہ تر کھنڈر تھا۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی نے لکھا ہے کہ قرآن میں (المسجد الاقصیٰ سے مراد جگہ ہے نہ کہ کوئی عمارت :
(Masjid) properly denotes the site, not the building of a mosque. (3/2) مسجد اقصی بظاہر ہیکل سلیمانی کے کھنڈر پر بنائی گئی۔ اور بیت المقدس کی تعمیر صخرہ (چٹان) کے اوپر ہوئی ۔ یہاں دیکھ کر معلوم ہوا کہ مسجد اقصیٰ ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے اور وہ پورے معنوں میں ایک مسجد ہے ۔ مگر بیت المقدس معروف معنوں میں کوئی مسجد نہیں ہے۔ اس کی تعمیر مقبرہ جیسی ہے ۔ جس طرح ہمارے یہاں قبر کے اوپر گنبد بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح صخرہ کے اوپر گنبد بنایا گیا ہے ۔ اس کے اندر با جماعت نماز نہیں ہو سکتی ۔ اسی لیے یہاں کسی موقع پر نماز نہ ہوتی ہے تو قبہ کے باہر میدان میں صفیں قائم کی جاتی ہیں۔
صخرہ کے متعلق یہود کی روایت ہے کہ یہاں ان کے ستر نبی قتل کیے گئے ان میں حضرت یحییٰ بن زکریا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues