Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

تحریر شائع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ مسجد اقصیٰ کی تصویر ہے اور اس تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے: ”مسجد اقصیٰ کو یہودی تولیت سے آزاد کراؤ (تصویر اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو) اصل مضمون جو نہایت جذباتی انداز میں لکھا گیا ہے۔ اس کے چند جملے یہ ہیں: جہاں تک مسجد اقصیٰ کا تعلق ہے اس پر پورے عالمِ اسلام کا حق ہے اور اس پر یہودیوں کے غاصبانہ تسلط کو عالم اسلام کبھی برداشت نہیں کر سکتا اور جب تک یہودی اس پر قابض ہیں دنیا کا ایک ایک مسلمان اس کی آزادی کے لیے جہاد کرتا رہے گا اور عالم اسلام میں اس وقت تک امن و چین کا ماحول پیدا نہیں ہو گا جب تک مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور پیغمبر اسلام کے معراج کی پہلی منزل یہودیوں سے آزاد نہیں ہو جاتی۔ اس لیے مسجد اقصیٰ اور عالمِ اسلام کے دوسرے مقاماتِ مقدس کی بابت یہودیوں سے ساز باز اور ان سے سیاسی سودے بازی کو مسلمان کبھی تسلیم نہیں کر سکتے۔ اور اس سلسلہ میں مصری علماء، اور شیخ الازھر کے کسی فتوے کو دنیا کے مسلمان تسلیم نہیں کر سکتے۔ مسجد اقصی مسلمانوں کی امانت ہے اس پر تولیت کا حق صرف مسلمانوں کا ہے (ماہنامہ البلاغ، اس طرح کے مضامین پڑھ کر اکثر میری زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں ۔ اس سے زیادہ عجیب بات شاید اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ مسجد اقصی کو جانتے بھی نہیں اور اس کے حقوق کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعد کے دور میں مسلمانوں نے قبلہ اول" کے لفظ کو جذباتی طور پر تو بہت استعمال کیا مگر مسجد اقصی کی زیارت کا رواج ان کے درمیان نہیں پڑا ۔ آمد و رفت کی اس کمی کا یہ نتیجہ ہوا کہ لوگوں کے ذہن میں واضح تصویر نہیں بنی کہ بیت المقدس کیا ہے اور مسجد اقصی کیا ہے۔

یہاں قریب سے دیکھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ اس کا ایک سبب غالباً دونوں کا جغرافی فرق بھی ہے۔ صورتِ واقعہ یہ ہے کہ بیت المقدس (قبة الصخرة) ایک اونچی چٹان پر ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسجد اقصی اس سے الگ نسبتاً نشیبی زمین پر ہے۔ اس بنا پر جب کوئی فوٹو لینے والا فوٹو لیتا ہے تو دونوں عمارتیں بیک وقت فوکس میں نہیں آتیں ۔ الا یہ کہ کسی بڑے کیمرے کر دیے، یہ سب کچھ اس نے اپنے طور پر کا پتا معلوم کر کے لکھا تھا۔ مجھے ان سب باتوں سے جو کچھ صدمہ ہوا، اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں یہ جانتا تھا کہ مجھ میں اور امراو میں کوئی ایسا معرکہ پیش آنے والا ہے جو میری زندگی کی کایا پلٹ دے گا۔ غرض، جیسے تیسے دن کٹے، مکان بدل کر میں دوسرے محلے میں منتقل ہو گیا اور اپنے بزرگوں کے ساتھ ہی رہنے لگا۔ میرا ارادہ تھا کہ امراؤ جان ادا کی یاد کو اپنے دل سے مٹا دوں اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو جاؤں۔ کچھ دنوں تک تو ایسا ہی رہا۔ میں صبح سویرے اٹھتا، اپنے دفتر جاتا، شام کو واپس آتا اور کتابیں پڑھنے میں مشغول ہو جاتا۔ لیکن انسانی دل عجیب شے ہے۔ لاکھ کوشش کرو، وہ اپنی پرانی یادوں کو دہراتا ہی رہتا ہے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میں بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک امراؤ کی گاڑی میرے پاس سے گزری۔ اس کی ایک جھلک نے میرے دل میں پھر سے طوفان برپا کر دیا۔ میں کچھ دیر کے لیے پتھر کا بت بن کر کھڑا رہ گیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ گاڑی رک گئی ہے اور امراؤ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔ لیکن یہ میرا وہم تھا۔ گاڑی تیزی سے آگے نکل گئی اور میں وہیں سڑک کے کنارے کھڑا رہ گیا۔ اس واقعے نے میرے دل کو پھر سے بے چین کر دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس محبت سے نجات حاصل کرنا اتنا آسان نہیں جتنا میں سمجھتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page