Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

کثرت سے عربی زبان میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔ یہ تقریباً ویسا ہی منظر تھا جو پرانی دہلی کی دیواروں پر پوسٹر کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ تمام کے تمام جنگ جو یانہ نعرے تھے۔ مزید یہ کہ وہ ہاتھ سے بدخط انداز میں لکھے ہوئے تھے اور بمشکل پڑھے جاتے تھے۔ ان راستوں سے مسلسل مرد اور عورت گزر رہے تھے مگر میں نے اپنے سوا کسی کو بھی نہیں پایا جس کو ان نعروں سے کوئی دلچسپی ہو یا وہ ان کو پڑھنے کے لیے ایک لمحہ وہاں رکنا پسند کریں۔ چند نعرے یہ تھے : قاتلو اعداء اللہ الارض لنا و القدس لنا التحية كل التحية لشهداء الخليل العيد لمن مات شهيداً تحية لكل قطرة دم سالت دفاعا تحية الى المتعلقين الابطال ـ فتح یہ پورا علاقہ تاریخی علاقہ ہے۔ یہاں قدم قدم پر عمارتوں کے اوپر ایسے بورڈ نظر آتے ہیں جو اس کی تاریخی حیثیت کی یاد دلاتے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ ایک عمارت کے گیٹ پر عربی میں لکھا ہوا نظر آیا : مكان مقدس، هنا بدأ يسوع آلاماً۔ ایک پھاٹک پر عبرانی اور انگریزی میں لکھا ہوا تھا : Tomb of the Prophets, Haggai and Maleachi ایک جگہ لکھا ہوا تھا : Birthplace of Virgin Marry ایک جگہ لکھا ہوا تھا : ساحة النبي داؤد (En-Nabi Dawoud Squire) مسلم نوعیت کے بورڈ بھی جگہ جگہ دکھائی دیے۔ مثلاً مثلاً ایک عمارت کے دروازہ پر لکھا ہوا تھا : (ادارة الاوقاف والشئون الاسلامية (مدير اوقاف القدس) ایک جگہ لکھا ہوا تھا : جامع الزاوية النقشبندية۔ اس علاقہ میں زیادہ تر دکانیں فلسطینیوں کی ہیں۔ ایک دکان کے آگے بنیان کے اوپر یہ الفاظ چھپے ہوئے تھے : بحبك يا فلسطين (اے فلسطین میں تجھ سے پیار کرتا ہوں)

۲۸ اگست کو دو بارہ میں اپنے ساتھی کے ہمراہ تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے نکلا۔ ہم نے اپنی گاڑی چھوڑ دی تاکہ ہم گلیوں اور تنگ راستوں میں بھی جا سکیں اور زیادہ سے زیادہ مقامات

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page